سیندک جیسے منصوبوں کے باوجود حقیقی وارث بدترین پسماندگی کا شکار ہیں، نیشنل پارٹی
نوکنڈی : نیشنل پارٹی چاغی کے پریس ریلیز میں سیندک پروجیکٹ کے حوالے سے کئے گئے دعوے پر اپنے ردعمل کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیندک پروجیکٹ بلوچستان کے وسائل میں شامل ہے جسے ملکی و غیر ملکی کمپنیز دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں اور اس پروجیکٹ سے ملکی معیشت کو سہارا ملتی رہی ہے مگر علاقہ کے حقیقی وارث آج بھی بدترین پسماندگی کا شکار ہیں سی ایس آر فنڈز کا تعارف 2013 ءمیں بلوچستان کے عوام کے ساتھ اس وقت ہوئی جب ڈاکٹر مالک بلوچ وزیراعلیٰ بلوچستان بنے اور پہلی بار سی ایس آر فنڈز نمودار ہوئے اور ڈاکٹر مالک نے سیندک پروجیکٹ سے ملنے والے تمام فنڈز ضلع چاغی میں ہی خرچ کئے نوکنڈی گھٹ واٹر اسپلائی اسکیم نوکنڈی میں بجلی کے 14 کروڑ نوکنڈی پاور ہاﺅس کے دو جنریٹرز و شیڈو وغیرہ چاغی میں بجلی کے ٹوٹل 22 کروڑ سی ایس آر فنڈز کے ڈاکٹر مالک نے انرجی ڈیپارٹمنٹ میں جمع کرائے بیان میں کہا گیا کہ 2013ئ سے پہلے کے اور 2018 ءکے بعد سی ایس آر فنڈز کا کسی کو معلوم نہیں کہ کہاں خرچ کئے گئے تھے، یا کئے جارہے ہیں، بیان میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ اربوں روپے کے سی ایس آر فنڈز سے سیندک کے حقیقی آبادی کو یکسر محروم رکھا گیا ہے۔ آج بھی سیندک اور کچھاو کی مقامی آبادیوں میں نہ سڑکیں، نہ تعلیمی ادارے، نہ صحت اور نہ کوئی اور قابل تعریف سہولت نظر آئیگی، دنیا کو اگر سیندک کے حوالے سے دعویداروں کی حقیقت معلوم کرنا ہے تو وہ ضرور سیندک اورکچھاوکے علاقوں کا دورہ کرکے حقیقت اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں، سیندک پروجیکٹ کے فنڈز سے پورے ملک کے ہزاروں طلبا و طالبات کو اسکالر شپس دیئے گئے مگر سیندک کے اپنے مقامی بچے اور بچیاں غربت کی وجہ سے میٹرک کے بعد تعلیم حاصل نہیں کرپار ہے۔ بیروزگاری علاقہ کا مقدر بنا ہوا ہے، پروجیکٹ منیجمنٹ میں موجود تعصب پرست اور کرپٹ لابی نے اپنی ایک الگ ریاست بنائی ہوئی ہے، ملازمتوں میں ضلع چاغی خصوصاً سیندک اور کچھاﺅ کے مقامی نوجوانوں کے ڈاکو منٹس سالوں سے ردی کے ٹوکری میں پھینکتے جارہے ہیں اور باہر سے ایسے لوگوں کو بھرتی کروا رہے ہیں جن کے ساتھ کمپنی سے پہلے افسران کا اپنا ایک ذاتی ایگریمنٹ کیا جاتا ہے کمپنی ملازمین کو مختلف حیلے بہانوں سے تنگ کرکے انہیں ذہنی اذیتیں دی جارہی ہیں، ملازمین کی تنخواہوں سے کٹوتی اورمختلف اضافی مراعات افسران اپنے کھاتے میں ڈالتے آرہے ہیں، نیشنل پارٹی سیندک پروجیکٹ کی مینجمنٹ یا انکے ترجمانوں کی جانب سے علاقے کی ترقی اور ملازمین کے حوالے سے جھوٹے دعووں کو یکسر مسترد کرتی ہے اور مقامی آبادی کے ساتھ جاری متعصبانہ اور استحصالی پالیسیوں اور ملازمین کے ساتھ جاری ناانصافیوں کیخلاف آواز بلند کرتی رہے گی۔


