دالبندین میں بڑھتی مہنگائی، اشیاءغریب عوام کی دسترس سے باہر
چاغی (انتخاب نیوز) دالبندین میں مہنگائی کا جن بے قابو ہر شے غریب عوام کہ دسترس سے باہر مقامی سطح پر تیل کمیٹی کی من مانی سے ایرانی پٹرول فی لیٹر دو سوروپے سے تجاوز کرگیا آٹا 20 کے جی 26 سو روپے میں فروخت ٹماٹر 180 تک پہنچ گئی انتظامیہ خواب خرگوش میں سورہی ہے تفصیلات کے مطابق ضلع چاغی کے عوامی حلقوں نے ضلع بھر میں بڑھتی ہوئی مہنگائی پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے دالبندین،چاگئے، نوکنڈی، تفتان ضلع بھر میں مہنگائی کا جن بے قابو تمام اشیا کی مصنوعی مہنگائی کا زمہدار دالبندین تیل کمیٹی ہے چاغی سمیت بلوچستان کے بیشتر سرحدی اضلاع میں لوگ پاکستانی پٹرول کی عدم فراہمی کی وجہ سے ایرانی پٹرول استعمال کرتے ہیں گزشتہ ایک سال سے دالبندین میں ایک نام نہاد پٹرول کمیٹی انتظامیہ کی زیر سرپرستی میں تشکیل دیا گیا جس کی سبب وہ آئے روز پٹرول کی نرخ کو بڑھا کر عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہا ہے ضلع کے اندر جتنے بھی کھلے منی پمپس ہے وہ تیل کمیٹی کے رحم وکرم پر چل رہے ہیں جو ایک مافیا کا روپ دھار کر بیٹھا ہوا ہے اس وقت دالبندین میں فی لیٹر ایرانی پٹرول 200 روپے لیٹر فروخت ہورہا ہے جس کی سبب اندرون ضلع ودیگر شہروں سے پھل اور سبزیاں لانے والی گاڑی مالکان نے بھی کرایہ بڑھا کر عوام کو پریشانی میں مبتلا کردیا ہے دوسری جانب نا اہل انجمن تاجران کی بدولت شہر سے چینی آٹا ودیگر غذائی اجناس افغانستان اسمگلنگ ہونے کا بھی انکشاف ہوا ہے جس کی سبب آٹا اور چینی مافیا بھاری دالبندین شہر اور ضلع کے نام پر پرمٹ کے ذریعے آٹا چینی لاکر مقامی ضلع کے بجائے افغانستان اسمگلنگ کرنے میں مصروف عمل ہے ادھر شہر کے اندر 20 کے جی آٹا 2600 روپے پرچوں فروخت ہورہا ہے چینی فی کلو ہول سیل ریٹ پر ایک سو روپے کلو فروخت ہورہی ہے اس وقت عوام شدید پریشانی میں مبتلا ہے عوامی حلقوں نے ضلع انتظامیہ کی کارکردگی پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کوئٹہ سے لیکر دالبندین اور بعد میں سرحد پار تک غذائی اجناس کیسے اسمگلنگ ہورہا ہے بظاہر یہی لگ رہا یہ تمام کام انتظامیہ کی ملی بھگت سے ہورہے ہیں عوامی حلقوں نے چیف سیکرٹری سے مطالبہ کیا ضلع چاغی میں مقامی سطح پر تیل کمیٹی اور غذائی اجناس کی اسمگلنگ کا نوٹس لیکر کاروائی عمل میں لائی جائے بصورت دیگر عوام ان مافیا کیخلاف سڑکوں پر نکل شدید احتجاج کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے جس کی تمام تر ذمہ داری ضلعی انتظامیہ پر عائد ہوگی۔


