سپریم کورٹ میں بڑی تعداد میں التوا کا شکار کیسز نمٹائے جائیں، بلوچستان بار کونسل
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان بار کونسل کے زیراہتمام جوڈیشل کمیشن پاکستان اور بین الصوبائی بار کونسل نمائندگان کانفرنس ہوئی جس کی صدارت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے ممبر اختر حسین نے کی جبکہ جوڈیشل کمیشن کے ممبران، احمد فاروق خٹک، راحب بلیدی، حیدر امام رضوی، پاکستان بار کونسل کے ممبر منیر احمد کاکڑ ایڈووکیٹ، وائس چیئرمین بلوچستان بار کونسل قاسم علی گاجیزئی، پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمین سید جعفر تیار بخاری، سندھ بار کونسل کے وائس چیئرمین ذوالفقار جلبانی، خیبر پختونخوا بار کونسل کے وائس چیئرمین محمد علی جدون، اسلام آباد بار کونسل کے وائس چیئرمین سید قمر حسین، بلوچستان بار کونسل کے ممبر ایوب ترین، بلوچستان ہائی کورٹ بار کے صدر عبدالمجید دمڑ، فاروق کھوکھر، الیاس خان کے علاوہ، ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سبی، تربت، خضدار اور لورالائی کے عہدیداران نے شرکت کی۔ کانفرنس میں متعدد قراردادیں پاس کی گئیں جس کے مطابق بلوچستان بار کونسل کے زیر اہتمام جوڈیشل کمیشن پاکستان اور بین الصوبائی بار کونسل نمائندگان کانفرنس مطالبہ کرتی ہے کہ سپریم کورٹ میں کیسز کا بہت بڑا بیک لاگ باقی ہے جبکہ سپریم کورٹ میں کل 17 سے 5 سیٹیں یعنی تقریباً کل تعداد کا ایک چوتھائی خالی پڑی ہیں، جیسا کہ جولائی 2022ءمیں جوڈیشل کمیشن کے آخری اجلاس میں معزز چیف جسٹس نے نہ صرف موجودہ اسامیوں کے پر کرنے کیلے افراد کو نامزد کرنا بلکہ متوقع اسامیوں کو بھی پر کرنا ضروری سمجھا تاہم اس کے بعد سے اب تک کوئی نئی نامزدگیاں نہیں بھیجی گئی ہیں اور نہ ہی عدالت عظمیٰ میں تقرریوں کے لئے جوڈیشل کمیشن کا کوئی اجلاس طلب کیا گیا جس کی وجہ سے فریقین کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، اس لیے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ چیئر مین جوڈیشل کمیشن سپریم کورٹ میں تقرریوں کے لئے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس فوری طلب کریں اور 28 جولائی کے اکثریتی رائے کا احترام کرتے ہوئے فوری طور پر سنیارٹی کی بنیاد پر نئے نام تجویز کریں۔ بلوچستان بار کونسل کے زیر اہتمام جوڈیشل کمیشن پاکستان اور بین الصوبائی بار کونسل نمائندگان کانفرنس مطالبہ کرتی ہے کہ اس کے ساتھ ہی جوڈیشل کمیشن کے پچھلے اجلاسوں میں یہ طے کیا گیا تھا کہ عدالتی تقرریوں کے لئے معروضی معیار طے کرنے کیلئے قواعد وضوابط رول فریم واضح کئے جائیں تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی پیشرف نہیں ہوئی، لہٰذا مطالبہ ہے کہ جوڈیشل کمیشن رولز کمیٹی کا اجلاس فوری طور پر سینئر جج کی صدارت میں بلایا جائے تاکہ کمشین کی منظوری کیلئے ڈرافٹ رولز تیار کئے جاسکیں تاکہ تقرریوں کے عمل میں من مانی اور اقرباءپروری کو روکا جاسکے۔ بلوچستان بار کونسل کے زیراہتمام جوڈیشل کمیشن پاکستان اور بین الصوبائی بار کونسل نمائندگان کانفرنس مطالبہ کرتی ہے کہ ایک سال سے زیادہ سندھ ہائیکورٹ محض سینارٹی کے طریقہ کار پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے مکمل بحران میں مبتلا ہے، چیف جسٹس آف سندھ ہائیکورٹ کا بیک وقت سپریم کورٹ کے ایڈ ہاک جج کے طور پر تقرر کیا گیا، دوسری طرف سینارٹی کے اصول پر انحراف کی وجہ سے سینئر ججوں کے درمیان عدالتی ہم آہنگی مکمل طور پر ٹو ٹ پھوٹ کا شکار ہے، جس سے ان کی عدالتی کاموں کو درست طریقے سے مربوط کرنے اور موثر طریقے سے انجام دینے کی صلاحیت پر منفی اثر پڑا ہے۔ مزید برآں ہائیکورٹ کے ججوں کی ساکھ خراب ہوئی، جس کی وجہ سے آﺅٹ آف ٹرن اپوائنٹ منٹ کے لئے نام تجویز کرنا ہے، اس لئے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ سندھ اور دیگر صوبوں سے سپریم کورٹ میں صرف اور صرف سینارٹی کے اصول کے مطابق فوری طور پر اپوائنٹ منٹ کی جائے تاکہ ہائیکورٹس کے ساتھ ساتھ عدالت عظمیٰ کے کام کو بہتر بنایا جائے۔ بلوچستان بار کونسل کے زیراہتمام جوڈیشل کمیشن پاکستان اور بین الصوبائی بار کونسل نمائندگان کانفرنس مطالبہ کرتی ہے کہ بار بار مطالبوں کے باوجود سپریم کورٹ نے سپریم کورٹ کے رولز میں ترمیم کیلئے مناسب اقدامات نہیں کئے اور از خود کارروائی یا پنجوں کی تشکیل مقدمات کے تین کو منظم کیا۔ اس سلسلے میں چیف جسٹس کو مکمل صوابدید اور مکمل اختیارات نہ صرف من مانی اور جانبداری کی الزامات کو جنم دیا بلکہ عدالت عظمیٰ اور انصاف کی انتظامیہ کی ساکھ کو بری طرح متاثر کیا۔ مزید برآں سپریم کورٹ کے رولز میں ترمیم کی ضرورت جو کہ نظرثانی کی کارروائی میں اسی وکیل کی حاضری کو لازمی قرار دیتی ہے جو کہ اصل کارروائی میں پیش ہوا تھا، قانونی چارہ جوئی کے لئے بڑی تکلیف کا باعث بنتا ہے، اس طرح ہم پارلیمنٹ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ آئین کے آرٹیکل 191 کے تحت اپنے اختیارات استعمال کرے اور عدالتی طریقہ کار کے ان چار پہلوﺅں کو منظم کرنے کیلئے پارلیمنٹ قانون سازی کرے، پارلیمنٹ سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ انیسواں آئینی ترمیم کو ختم کیا جائے۔ بلوچستان بار کونسل کے زیر اہتمام جوڈیشل کمیشن پاکستان اور بین الصوبائی بار کونسل نمائندگان کانفرنس کی جانب سے فیصلہ کیا گیا کہ مذکورہ بالا قرارداد تحریر کی شکل میں اراکین قومی اسمبلی کو ارسال کی جائیںگی۔


