جے یو آئی اراکین پر تشدد، جام کمال نے مولانا واسع سے معافی مانگ لی، دونوں رہنماﺅں میں صلح

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ جام کمال نے جے یو آئی کے صوبائی امیر مولانا واسع کے گھر جاکر 18 جون 2021ءکے بجٹ اجلاس کے دوران جے یو آئی کے اراکین اسمبلی پر تشدد کے واقعے پر معذرت کرلی،، مولانا عبدالواسع نے معذرت قبول کرتے ہوئے سوا سال کے بعد جام کمال سے صلح کرلی۔ پیر کو سابق وزیراعلیٰ جام کمال نے اراکین اسمبلی میر سلیم کھوسہ ، میر عارف جان محمد حسنی کے ہمراہ صوبائی امیر جے یوآئی مولانا عبدالواسع کی رہائشگاہ پر ان سے ملاقات کی اور گزشتہ سال اٹھارہ جون کو بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن اراکین کے احتجاج کے موقع پر جے یو آئی ف کے اراکین پر پولیس تشدد کے واقعے پر معذرت کی۔ اس موقع پر میڈیا سے بات چیت میں جام کمال کا کہنا تھا کہ میں نے پہلے بھی اس واقعہ کی مذمت کی تھی آج مولانا واسع کے پاس آکر معذ ر ت کی ہے ،جام کمال نے مزید کہا کہ دل پر ایک بوجھ تھا جسے ہلکا کیا، خیر کا معاملہ ہے اس لئے جلدی کی ہے۔ اس موقع پر جے یو آئی ف کے امیر مولانا عبدالواسع نے کہ کہا کہ جام کمال نے اسمبلی تشدد واقعہ پر معذرت کرکے بلوچستان کی روایات کو زندہ کیا ہے۔ مولانا عبدالواسع نے کہا کہ ہم نے جام کمال کی حکومت تبدیل کرکے قدوس حکومت بنوائی تھی، لیکن اس حکومت کی غفلت سے سیلاب زدگان پریشان ہیں ، ہم حکومت میں شامل ہوکر سیلاب زدگان کی مدد کرنا چاہتے تھے ، لیکن قدوس بزنجو نے ہمیں آفر کرکے مناسب عزت نہیں دی ، اب ہم اپوزیشن میں بیٹھ کر ان کیااصلاح کریں گے ،بی این پی صوبائی حکومت میں شامل ہوتی ہے یا نہیں اسکا فیصلہ وہ خو د کریں گے ، سیاست میں کوئی چیز حرف اخری نہیں ہوتی ہم نے ہر پارٹی کیلئے دروزاے کھلے رکھے ہوئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں