سبی، گیس پریشر میں کمی اور زونل منیجر کیخلاف آل پارٹیز کا دھرنا دوسرے روز بھی جاری

سبی (انتخاب نیوز) گیس پریشر میں کمی اور زونل منیجر کیخلاف آل پارٹیز کا احتجاجی دھرنا دوسرے روز بھی جاری، زونل مینیجر کے فوری تبادلے کا مطالبہ، مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج نیشنل ہائی وے بند کردیں گے، مقررین کا احتجاجی دھرنے سے خطاب۔ عرصہ دراز سے سبی شہر سمیت دیہات میں گیس کی سہولت میسر نہیں، بھاری بھر کم بل جمع کرنے کے باوجود شہری گیس کی بجائے لکڑیاں جلانے پر مجبور ہیں۔ گیس پریشر کی انتہائی کمی اور غیر قانونی اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کیخلاف آل پارٹی، سیاسی وسماجی تنظیموں نے پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا اور دھرنا دیا۔ مظاہرین نے گیس پریشر کمی اورغیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے زونل منیجر سوئی سدرن گیس کمپنی کیخلاف سخت نعرے بازی کی اور اسے فوری طور پر سبی سے ٹرانسفر کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس احتجاج میں پریس کلب کے سامنے گیس پریشر کے ستائے اور زونل منیجر کے غیر ذمہ دارانہ رویے کیخلاف درجنوں شہریوں نے بھی حصہ لیا اور علامتی بھوک ہڑتال کا اعلان کیا۔ مظاہرے میں پختونخوا ملی عوامی پارٹی سے سید نور احمد شاہ، بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی سے ٹکری اسلم جتوئی، محمد دین مری، ملک پنل رند، سبی یوتھ اتحاد کے چیئرمین سردار زادہ ابراہیم خان باروزئی، سول سوسائٹی سبی کے جنرل سیکرٹری سفر خان گشکوری، پاکستان پیپلز پارٹی سے میر معراج رند، میر ریحان بگٹی، ایپکا ضلع سبی مہراب گروپ سمیت دیگر سیاسی وسماجی تنظیموں کے سینئیر رہنماﺅں نے حصہ لیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ ہمارا احتجاج غیر معینہ مدت تک کے لیے ہے جو مسئلے کے حل اور زونل منیجر کے سبی سے تبادلے تک جاری رہیگا۔انہوں نے کہا کہ بچوں کو ناشتہ کیئے بغیر اسکول جانا پڑتا ہے مگر اس گیس کے زونل منیجر سبی کو مفاد عامہ کی قطعا کوئی پرواہ نہیں۔ انہوں نے زور دیکر کہا کہ اگر ہمارا مطالبہ تسلیم نہ کیا گیا تو احتجاج کو نیشنل ہائی وے تک بڑھا دینگے۔ انہوں نے سندھ بلوچستان کے منیجنگ ڈائریکٹر سے اپیل کی کہ وہ اس غیر ذمہ دار زونل منیجر کو مفاد عامہ میں فوری طور پر سبی سے ٹرانسفر کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں