پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی سے 29 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا، عالمی بینک

اسلام آباد(انتخاب نیوز)عالمی بینک کا کہنا ہے کہ قدرتی آفات نے گزشتہ 3 دہائیوں میں تقریباً ساڑھے 7 کروڑ سے زائد پاکستانیوں کو متاثر کیا ہے اور اس کے سبب پاکستان کو 29 ارب ڈالر یا تقریباً ایک ارب ڈالر نقصان پہنچا ہے ۔ عالمی بنک کی رپورٹ کے مطابق درجہ حرارت کی شدت میں ممکنہ اضافہ انسانی صحت، معاش اور ماحولیاتی نظام پر پڑنے والے منفی اثرات کو بتدریج بڑھائے گا جن کا پاکستان پہلے ہی سامنا کر رہا ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ پاکستان کی آب و ہوا حالیہ دہائیوں میں تبدیل ہو رہی ہے اور ملک کو گرمی کی شدت کا سامنا ہے جو عالمی اوسط سے کافی زیادہ ہے۔ 1999 سے 2002 تک سندھ اور بلوچستان میں خشک سالی کے سبب 20 لاکھ مویشی ہلاک ہوگئے، کاشتکاروں کو پینے کا پانی اور خوراک فراہم کرنے کے لیے ہنگامی امداد کی ضرورت رہی۔بارشوں کے معمول میں لمبے عرصے تک معمولی تبدیلیاں بھی پانی کی فراہمی کے لیے دستیاب وسائل پر زیادہ دباو¿ ڈال کر پاکستان کی خوراک کی پیداوار کو متاثر کر سکتی ہیں جن پر ملک کا نظامِ آبپاشی منحصر ہے۔ شمالی پہاڑی علاقے کے علاوہ خاص طور پر کپاس، گندم، گنا، مکئی اور چاول جیسی فصلوں کی پیداوار میں بڑے پیمانے پر کمی کا خدشہ ہے۔رپورٹ کے مطابق تمام صوبوں نے ٹریکٹر، ٹیوب ویل، تھریشر اور کھاد وغیرہ کے استعمال میں بہت زیادہ اضافہ کیا ہے جبکہ پنجاب کے علاوہ دیگر صوبوں نے کھیتی باڑی کے لیے افرادی قوت میں بھی اضافہ کیا ہے، پیداواری صلاحیت میں اضافے کی بجائے یہ عوامل پیداوار میں اضافے کی بنیادی وجہ سمجھے جاتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں