شوہر کے مظالم سے نجات دلا کر انصاف فراہم کیا جائے، خاتون آمنہ بی بی
کوئٹہ (انتخاب نیوز) خاتون آمنہ بی بی نے کہا ہے کہ میرے والد کا نام دائم دین ہے میری شادی دسمبر 2019کو یوسف نامی شخص سے ہوئی اُنکے والد میاں محمد اکبر اسکے ساتھ ہی میاں محمد یوسف کا تعلق بول نیوز اور سیون نیوز سے بھی ہے وہاں رپورٹر کے طور پر کام کرتے ہیں میاں محمد یوسف کی شادی سے پہلے بھی میری ایک شادی ہوئی تھی جس سے دو بچے ہیں اور میاں محمد یوسف نے مجھ سے اُن کی پرورش کا وعدہ کیا تھا اور میاں محمد یوسف کے پہلے بھی 8بچے ہیں اور اُنکی بیوی بھی حیات ہے اِن خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا آمنہ بی بی نے مزید کہا کہ شادی کے بعد میاں محمد یوسف نے تشدد شروع کیا اور شراب پی کر مجھے مارتا میرے بچوں کو جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیتا تھا اور میاں محمد یوسف کے بیٹے میاں محمد نوید نے مجھے بندوق سے مارنے کی کوشش کی میاں محمد یوسف مجھے روز شراب پی کر مارتا پیٹتا چھروں سے مجھے مارنے کی کوشش کی اور میرا گلہ بھی دبایا 13اکتوبر کو شراب پی کر تشدد کیا اور بازوں بھی ٹوٹ گئے سینے پر وار کیا سر پر کرکٹ کے بلے سے مارا مارنے کے بعد میں نے اس پر ایف آئی آر کٹوائی اور قانونی کاروائی کی درخواست کی یہ آدمی ابھی تک آزاد گھوم رہا ہے اور مجھے نمبروں سے دھمکیاں دیتا ہے مجھے میرے بھائیوں کو اس آدمی نے پولیس کے 15 نمبر کے ذریعے گرفتار کروایا اور تین دن تک تھانے مین بند رہا کوئٹہ سے اسے لینے کیلئے پولیس نہیں گئی وہ آزاد ہوکر میرے گھر سے سارا سامان قیمتی چیزیں اُٹھا کر لے گیا جس میں نقد رقم اور زیور شامل ہے میں حکومت بلوچستان سے درخواست کرتی ہوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے میری مدد کی جائے اور مجھے انصاف دلایا جائے ۔


