صحبت پور میں سیلاب متاثرین کی مشکلات برقرار، سڑکوں پر حکومتی امداد کے منتظر
حمید آباد (انتخاب نیوز) صحبت پورمیں سیلاب کی تباہ کاریاں ہیں جورکنے کانام نہیں لے رہیں ۔سیلاب تو گزرگیامگر اپنے پیشھے کبھی نہ مٹنے والی تباہی کی داستانیں چھوڑگیا۔گوٹھ اللہ بخش ساسولی کے مکین بھی دوماہ گزرجانے کے باوجود تاحال روڈوں کے کناروں پرمقیم ہیں گاوں میں آج بھی تین سے چارفٹ سیلابی پانی جمع ہے ۔تفصیلات کے مطابق صحبت پور میں سیلاب کو آئےدوماہ کاعرصہ بیت چکا مگر گوٹھ اللہ بخش سالولی کے مکینوں کی مشکلات کم نہ ہوسکیں ۔گوٹھ میں تاحال 3سے 4فٹ سیلابی پانی جمع ہے گرمیاں تو جیسے تیسے کرکے سیلاب متاثرین نے گزار لیں مگر اب سردیوں کاموسم شروع ہونے والا ہے جس سے انکی مشکلات میں مزید اضافہ ہونے والاہے متاثرین کاکہناہیکہ چندروزقبل ہم گاوں سے گھریلوسامان نکالنے کےلیے آئے تھے اور ہمارا 16سالہ نوجوان کرنٹ لگنے کے باعث جانبحق ہوگیا اگر گاوں میں پانی نہ ہوتااور راستہ ہوتاتوبروقت اسے ہسپتال منتقل کرکے اسکی جان بچاسکتے تھے مگرگاوں کے چاروں اطراف سیلاب کا پانی کھڑا ہونے اور راستہ نہ ہونے کے باعث ہمارانوجوان لڑکاجان کی بازی ہارگیا۔گوٹھ میں تیس سے پینتیس گھر تاحال سیلابی پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں متعددگھرگرچکے ہیں گوٹھ میں 150 سالہ قدیمی مسجد بھی تاحال سیلابی پانی کی نظر ہوئی ہے ۔متاثرین کاکہناہیکہ نہ ضلعی انتظامیہ کاکوئی نمائندہ آیاہے اور نہ ہی کوئی این جی اوز نے ہمیں یاد کیاہے اور تواور جس کو ہم نے ووٹ دیے اس نے بھی ہم سے آنکھیں پھیر لی ہیں دو بار وزیراعظم شہبازشریف نے جبکہ ایک بار وزیراعلی بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے صحبت پور کادورہ تو کیامگر یہاں کے سیلاب متاثرین کی حالت نہ بدل سکی ۔متاثرین کھلے آسمان تلے بے یارو مددگار حکومتی امداد کے منتظر بیٹھے ہوئے ہیں ۔متاثرین جھوٹی تسلیوں اور جھوٹے وعدوں کے سوا کچھ بھی نہیں ملا ہے۔


