کیلی گرافرز عشق رسول کے اظہار کیلئے اپنی صلاحیتوں کا استعمال جاری رکھیں گے، حاجی لشکری

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان پیس فورم کے سربراہ ، سینئر سیاستدان سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ ارتقاءایک فطری عمل ہے جو معاشروں اور قوموں کے لئے ناگزیر ہوتا ہے ،انفارمیشن ٹیکنالوجی کے انقلاب کے باوجود خطاطی کے قدیم اسلامی فن کو زندہ رکھنا بہت مشکل اور صبر آزما کام ہے جس کے لئے اس فن سے وابستہ افراد خراج تحسین کے مستحق ہیں دیگر علوم و فنون کی طرح فن خطاطی نے بھی مختلف ادوار طے کئے ہیں کیلی گرافرز کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل ہونے چاہیں تاکہ وہ زیادہ فعالیت کے ساتھ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لاسکیں۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے ادارہ ثقافت کوئٹہ میں کیلی گرافرز ایسوسی ایشن اور نظامت ثقافت کے زیراہتمام سید الانبیاءکے عنوان سے منعقدہ قومی مقابلہ خطاطی کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے نمائش میں رکھے گئے فن پاروں دیکھے اور بلوچستان سمیت ملک بھر سے آئے کیلی گرافرز سے بات چیت بھی کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے اندرون بلوچستان سمیت ملک کے مختلف شہروں سے آئے ہوئے خطاط حضرات کو کوئٹہ میں خوش آمدید کہتا ہوں اور اس امید کا اظہار کرتا ہوں کہ وہ عشق رسول کے اظہار کے لئے اپنے فن اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا استعمال جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میرے لئے یہ بہت بڑا اعزاز ہے کہ میں ایک ایسی تقریب کا حصہ ہوں جس میں آئے لوگ عشق رسول کا اظہار اپنے فن کے ذریعے کررہے ہیں ، بالخصوص بلوچستان میں جہاں اس وقت بھی ایک بحرانی کیفیت ہے ، اس کے باوجود ہمارے لوگ اس قدیم اسلامی فن سے منسلک اور اپنی صلاحیتوں کا اظہار کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فن خطاطی فی زمانہ ختم ہوتا جارہا ہے حکومت کو چاہئے کہ وہ نامساعد حالات کے باوجود اس قدیم اسلامی فن سے وابستہ افراد کی ہر ممکن سرپرستی کرے ذاتی طور پر میں بھی کوشش کروں گا کہ ان کا ہاتھ بٹاﺅں کیلی گرافرز اور منتظمین کی جانب سے پیش کردہ سپاسنامہ پر عملدرآمد کے لئے انہیں بھرپور مدد کی یقین دہانی کراتا ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں