بلوچستان اسمبلی اجلاس، عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں تقاریر کیخلاف قرار داد منظور نہیں کروائی جاسکی
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان اسمبلی کا اجلاس ایک بار پھر کورم کی نشاندہی پر غیر معینہ مدت تک کے لئے ملتوی،گوادر میں ریسرچ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ریسرچ اینڈ رجسٹریشن آ ف کوالٹی اشورنس، اراکین صوبائی اسمبلی کو تحفظ دینے لئے لیویز اہلکاروں کی فراہمی، تعلیمی اداروں میں بلوچی اور براہی، پشتوزبانوں کی تعلیم شروع کرنے کی قرار دادیں منظور کرلی گئیں تاہم حکومت کی عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں ملکی اداروں کے خلاف تقاریر کے خلاف قرار داد منظور نہیں کروائی جاسکی۔ جمعرات کو بلوچستان اسمبلی کا اجلاس دو گھنٹے کی تاخیر سے ڈپٹی اسپیکر سردار بابر خان موسیٰ خیل کی زیر صدارت شروع ہوا۔ اجلاس میں بی اے پی کے رکن اسمبلی میر عارف جان محمد حسنی نے پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ رخشان ڈویژن کے قیام کے بعد ضلعی سطح پر پوسٹوں کو الگ نہیں کیا گیا ہے۔ پبلک سروس کمیشن کی آسامیاں بھی رخشان ڈویڑن کی بجائے کوئٹہ کو بھیجی گئی ہیں انہوں نے کہاکہ آسامیوں کو رخشان ڈویژن کو منتقل کی جائیں۔ وزیراعلیٰ کے پارلیمانی سیکرٹری برائے اقلیتی امور خلیل جارج نے پوائنٹ آف آرڈر پر ہندو برادری کو دیوالی کی مبارکباد دیتے ہوئے کہاکہ پاکستان میں تمام مذاہب اپنے مذہبی تہوار منانے میں آزاد ہیں، ڈپٹی اسپیکر نے بھی ہندو برادری کو دیوالی کی مبارکباد دی۔


