مادری زبانوں کی ترقی و ترویج سے نوجوان نسل کو تمام علوم تک دسترس ہوگی، بلوچستان اسکالرز فورم
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان اسکالرز فورم کے ترجمان کی جانب سے شائع کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مادری زبانوں کی بقاء کی جدوجہد میں ہمارے ساتھ دینے پر ہم سب کے مشکور ہیں۔ ہمیں امید ہے بلوچستان حکومت جلد اَز جلد اساتذہ کی تعیناتی کو یقینی بنا نے کے عمل کو پایہ تکمیل تک پہنچا کر ہماری داد رسی کی گئی، بلوچستان اسمبلی میں اس بل کی منظوری ہم سب کی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بلوچستان اسمبلی میں اپنے تمام عوامی نمائندوں کا تہہ دل سے شکر گزار ہیں کہ جنہوں نے ہماری مادری زبانوں بلوچی، براہوئی، پشتو اور دیگرکی ترقی و ترویج کے لیے بلوچستان اسمبلی تک ہماری آواز پہنچا دی۔ خاص طور پر بی این پی مینگل کے ایم پی اے ثناء بلوچ کے جنہوں نے بلوچستان کے اسکولوں میں مادری زبانوں کے لیے اساتذہ کی تعیناتی کا بل اسمبلی سے متفقہ طور پر منظور کروایا۔ اس کے علاوہ شکیلہ نوید دہوار، ظہور احمد بلیدی اور دیگر کی کہ جنہوں نے مادری زبانوں میں تعلیم کے حوالے سے بل کی حمایت میں اپنا اظہار خیال کیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ نہ صرف ہماری کامیابی ہے بلکہ یہ ہماری آنے والی نسلوں کی کامیابی ہوگی۔ اسکولوں میں مادری زبان رائج ہونے سے بچوں میں پڑھائی کا رجحان بڑھ جائے گا اور ذہنی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا۔ وقت کے ساتھ ساتھ انہیں مادری زبان کی اہمیت اور مادری زبان میں تعلیم کا بہتر اندازہ ہوگا۔ جہاں مستقبل میں وہ اپنی تمام تر تعلیم اپنی ہی زبان میں حاصل کرنے کے قابل ہوجائیں گے۔ اس جدید اور ترقی یافتہ دنیا کا مقابلہ ہم اس وقت کرسکتے ہیں جب ہم ضرورت کے تمام علوم کو اپنے بچوں تک پہنچانے میں آسانی پیدا کریں۔ وہ آسانی صرف اور صرف مادری زبان ہی کے ذریعے ممکن ہے۔ بلوچستان اسکالرز فورم اس کامیابی پر اپنے تمام اسٹیک ہولڈرز کا شکریہ ادا کرتا ہے، جنہوں نے اس جدو جہد میں صدق دل سے اہم ذمہ داری نبھا کر ہماری مقصد کی پہلی سیڑھی عبور کرنے میں ہمارا ہاتھ تھام کر ہمارا ساتھ دیا۔


