بی این پی،2018ء کی الیکشن ڈیل، ثنا اللہ زہری کیخلاف عدم اعتماد، قدوس کو لانچ کرنا اور لشکر بلوچستان کو سرنڈر کروانا تھا، نیشنل پارٹی

کوئٹہ (انتخاب نیوز) نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان نے باپ پارٹی کے خالق جماعت بی این پی مینگل کے گزشتہ روز کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیشنل پارٹی پر بلاجواز کی تنقید دراصل فواد چوہدری کے بیان کا نتیجہ ہے، ان لوگوں نے اسلام آباد میں بلوچستان کے سیاسی مقام کی اتنی بے توقیری کی ہے کہ کھبی شیخ رشید ان پر انگلی اٹھاتا ہے کھبی فواد چوہدری تو کبھی کالی رینج روور کا ذکر زبان زدعام ہوتا ہے، اس میں نیشنل پارٹی کا کیا قصور ہے۔ پارٹی ترجمان نے کہا کہ مجموعی طور پر عوام بی این پی سے سوال کررہے ہیں کہ انتخابات کے دوران عوام سے وعدہ کیا گیا کہ ہمیں نالیوں، سڑکوں کے ٹھیکہ کمیشن سے کوئی سروکار نہیں، کامیاب ہوکر آپ کے پیاروں کو بازیاب کرائیں گے، اب ستم ظریفی کا عالم یہ ہے کہ مسنگ پرسنز کے قائم کمیشن کا چیئرمین خود اختر مینگل ہیں بجائے اس کے کہ مسنگ پرسنز بازیاب ہوں بولان سے خواتین لاپتہ ہورہے ہیں، وفاقی حکومت میں وزارتوں پر براجمان ہیں جبکہ بلوچستان میں قدوس بزنجو کے ساتھ سائلنٹ پارٹنر ہیں۔ قدوس بزنجو کا ماتھا چوم کر کرسی پر بٹھایا، اپنا پراسیکیوٹر بھرتی کرویا اور ساتھ میں یہ راگ بھی الاپ رہے ہیں کہ ہم گناہ میں شامل نہیں، یہ ان کا وتیرہ ہے کہ روز اول سے گناہ کرکے بے گناہی ثابت کرنے کے لیے بھڑک بازی کا سہارا لیتے ہیں۔ ایٹمی دھماکے کے موقع پر پائلٹ کا کردار ادا کیا پھر ایٹمی دھماکوں کے خلاف پونم میں تقریریں کرنے لگے۔ تین سال باپ پارٹی کے ساتھ مل کر عمران نیازی حکومت کے حصہ دار رہے، کھبی چھے نکات کھبی گیارہ نکات کا راگ الاپتے رہے، لاپتہ افراد پر بھڑک بازی کرکے دس ارب کی فراڈ اسکیم لیکر ٹھیکہ و کمیشن پر دست و گریبان ہوئے اور ایک دم سے چھلانگ لگا کر میر حاصل بزنجو مرحوم کی تشکیل کردہ پی ڈی ایم میں شامل ہوکر یہاں گلا پھاڑنے لگے اور یہ بھول گئے کہ جس نیازی کیخلاف گلا پھاڑ رہے ہیں ان کو ووٹ دیا ان کے چیئرمین سینیٹ کو ووٹ دیا، ان کی ہر قسم کی قانون سازی میں شریک رہے آرمی چیف کو ایکسٹینشن کا ووٹ دیکر گوادر بچانے کی نوید سنائی یہ سب ایسے بھول گئے جیسے ایک نئی دنیا میں داخل ہوچکے ہیں۔ پارٹی ترجمان نے واضح کیا کہ ان کی مثال اس آبی مرغے کی ہے جو دن رات پانی میں ہونے کے باوجود اس کے پر گیلے نہیں ہوتے۔ روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ 2018ء میں ثنا اینڈ کمپنی کے ذریعے اختر اینڈ کمپنی نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ الیکشن ڈیل کی جس کا آغاز سردار ثنا اللہ کیخلاف عدم اعتماد اور قدوس بزنجو کو لانچ کرنا اور لشکر بلوچستان کو سرنڈر کرنا اس ڈیل کا حصہ تھا اور یہ بھی اس ڈیل کا حصہ تھا کہ ایک فریق اسمبلی میں بلوچستان کی محرومیوں کا رونا روئے گا، لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے بھڑک بازی کریگا مگر کاروبار وٹے سٹے کا ہوگا، ایک بازیاب کریں گے، تین لاپتہ کیا جائیں گے، دونوں کا کاروبار چلتا رہے گا۔ پارٹی ترجمان نے کہا کہ اپنے بیان میں بی این پی مینگل نے جس بزرگ سیاستدان کا ذکر کیا ہے یہ تاریخ کا حصہ ہے کہ 1988ء میں ان کا لیڈر محض دکان کے ساتھ اکلوتا بلوچستان آیا، اس بزرگ سیاستدان نے انہیں اپنی پارٹی میں جگہ دی تو سال بھی پورا نہیں ہوا تھا کہ اس پیر مرد کی پیٹھ میں چھرا گھونپ کر ان کی پارٹی کو توڑا اور اپنا گروہ تشکیل دیا، اسی طرح بی این پی کے ساتھ انضمام کرکے ایک حصہ وہاں سے نکال کر اپنی پارٹی بنالی، یہ کوئی جماعت نہیں چھاپہ مار سیاسی مافیا ہے۔ جام حکومت میں اسمبلی کے اندر جو گملا باری کی گئی بعد ازاں تھانے میں بیٹھ گئے، وہ گملا باری نہ لاپتہ افراد کے لیے تھا نہ بلوچستان کے لیے اور جس ٹینکی لیکس کا ذکر اپنے بیان میں کیا اسی ٹینکی لیکس کے پیسوں کی سجی تھانے میں نوش فرمائی، بلوچستان یونیورسٹی ہراسگی کیس میں ان کے ایم پی ایز نے دو دو پوسٹ لیکر معاملے پر مجرمانہ طور پر مٹی ڈال دیا۔ آج سی ٹی ڈی کے ذریعے سینکڑوں نوجوانوں کو لاپتہ کرایا جارہا تاکہ ان کو بھڑک بازی کا موقع ملتا رہے اور اختر اینڈ کمپنی تندو تیز تقاریر کرکے قیمتی گاڑیاں گفٹ لیتا رہے حالانکہ سی ٹی ڈی اس وزیراعلیٰ کے ماتحت ہے جس کے ماتحت اس بھڑک باز جماعت کا پراسیکیوٹر جنرل ہے۔ اس بھڑک بازی پر شہید نواب بگٹی نے ان کو کاغذی شیر اور گفتار کے غازی کا لقب دیا تھا۔ نیشنل پارٹی کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ یہ انیسویں صدی نہیں کہ کمیشن بھی لیں، اسٹیبلشمنٹ کی بی ٹیم بھی بن جائیں اور پروفیشنل پیشوا بن کر تندو تیز تقاریر سے لوگوں کا ورغلائیں یا منافقت اور دروغ گوئی کرکے بلوچ نوجوانوں اور بلوچ سیاسی قیادت کو دست و گریباں کریں یہ کام 2007ء سے 2011ء تک اختر اینڈ کمپنی نے بخوبی سرانجام دیا اب یہ کمپنی نہیں چلے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں