خودکش حملے میں آنکھ سے محروم ہونے والی افغان طالبہ، یونیورسٹی داخلہ ٹیسٹ میں کامیاب

کابل:افغانستان لڑکیوں کے تعلیمی ادارے کے قریب خود کش حملے کے دوران زخمی ہونے والی ایک آنکھ سے محروم ہو جانے والی طالبہ نے یونیورسٹی میں داخلے کا امتحان پاس کر لیا ہے۔فاطمہ امیری نامی طالبہ کی آنکھ ضائع ہو گئی تھی جبکہ ان کے کان اور جبڑے میں چوٹ آئی تھی۔ امیری 30 ستمبر کو ہونے والے خود کش دھماکے میں شدید زخمی ہوئی تھیں۔ خود کش دھماکے کا ہدف کاج ایجوکیشن سنٹر کو بنایا گیا تھا۔اس حملے میں 53 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔ یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب سٹوڈنٹس ایک امتحانی ریہرسل کے ماحول سے گزر رہے تھے۔ان میں زیادہ تر طالبات اور خواتین تھں۔ زیادہ زخمی بھی طالبات اور خواتین ہی ہوئی تھیں۔ جنہیں بعد ازاں کابل میں قائم محمد علی جناح ہسپتال میں زخمی حالت میں لے جایا گیا۔فاطمہ امیری نے یونیورسٹی کے داخلے کے لیے دیے گئے امتحان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا ‘جو ٹاسک مجھے اپنی دونوں آنکھوں کے ساتھ پورا کرنا تھا اب ایک آنکھ کے ساتھ کروں گی۔امتحان کے روز میں کاج حملے میں زخمی ہو گئی تھی، میری آنکھ میں درد تھا، میں سوالات پر مشتمل پیپر کو اچھی طرح پڑھ نہیں پا رہی تھی، لیکن اب میں سمجھتی ہوں آنکھ کے نقصان کے بعد میں زیادہ مضبوط ہوں۔واضح رہے سترہ سالہ فاطمہ امیری نے یونیورسٹی میں داخلے کے لیے ہونے والے ٹیسٹ میں 85 فیصد نمبر لیے ہیں۔امیری کی ٹیچر نے اسے آن لائن رزلٹ دیکھنے میں مدد کی اسے شروع میں افسوس تھا کہ وہ ٹاپ ٹین سٹوڈنٹس میں نہیں۔امیری نے کہا ‘میں توقع کر رہی تھی کہ میں پہلے دس سٹوڈنٹس میں شامل ہوں گی۔ مگر نہیں معلوم کہ اس کا اعلان کیوں نہیں کیا گیا۔’ اس کا کہنا تھا لڑکیوں کا ٹیلنٹ نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں