عوام کو دست و گریباں کرنیوالے سازشی عناصر بلوچستان کی محکمومی کے ذمے دار ہیں، بی این پی
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماو¿ں نے کہا ہے کہ بلوچستان اپنے محل وقوع کی وجہ سے دنیا کی نظریں اس سرزمین پر مرکوز ہے تاہم انہیں یہاں کی عوام کی کوئی فکر نہیں بلکہ بلوچستان کے قدرت سے مالامال خطے کے وسائل درکار ہیں یہی وجہ ہے کہ یہاں کی اقوام پسماندگی کا شکار اور پستی کی طرف لے جارہے ہیں ،جیو اسٹریٹیجک پوائنٹ پرآباد ہونے کی وجہ سے اقتصادی زون کی بجائے صوبے کو عسکری زون بنانے کے شکار ہیں یہاں کے اقوام مختلف حصے ایک بدن کی مانند ہے جب ایک حصے کو درد ہوتاہے توپورے بدن میں یہ محسوس کیاجاتاہے ضرورت اس امر کی ہے کہ یہاں کی اقوام بلارنگ نسل مذہب ہرقسم کی نفرت اور تعصب سے بالاتر ہوکر صوبے کی اجتماعی مفادات کے تحفظ اور حفاظت کی خاطر بی این پی کے پلیٹ فارم اور بیانیہ کے سایہ تلے متحد ومنظم ہوکر صوبے کو اس نام نہاد مصنوعی بحران ،وسائل کی لوٹ کھسوٹ سے نکال کر صوبے کی ترقی وخوشحالی میں اپنا بھرپور حصہ شامل کریں ان خیالات کااظہار بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات وفاقی وزیر سائنس ٹیکنالوجی آغا حسن بلوچ۔ سی ای سی ممبر و ضلعی صدر کوئٹہ غلام نبی مری۔ سی ای سی ممبر خالد شاہ دلسوز۔ ضلعی سنیئر نائب صدر ملک محی الدین لہڑی۔ ضلعی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ڈاکٹر علی احمد قمبرانی۔ ضلعی انفارمیشن پروفیشنل سیکرٹری میر غلام مصطفےٰ سمالانی۔ مرکزی کونسلر بسم اللہ سمالانی علاقہ کے عمائدین نے جہلم کاریز مری کالونی میں منعقد رابطہ مہم پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ضلعی عہدیداران میر اکرم بنگلزئی۔ نسیم جاوید ہزارہ۔ عطائ اللہ کاکڑ۔ ضلعی رہنماو¿ں رضاءجان شاہی زئی۔ ڈاکٹر قدوس بلوچ۔ شاہنواز کشانی۔ حاجی صادق مینگل۔ عامر شاہوانی۔ بابل زہری ملک مرتضیٰ اور دیگر عمائدین۔ پارٹی کارکنان کثیر تعداد میں موجود تھیں۔ انہوں نے کہاں کہ آج بلوچستان جن سیاسی ،سماجی معاشی معاشرتی مسائل ،بحرانوں اور تضادات کاشکار ہے اس کا بنیادی سبب ان قوتوں کی کارستانیاں ہیں جو وہ طاقت کے زور پر یہاں کے وسائل کو اپنے دسترس میں لانے کیلئے صوبے کی غریب ومحکوم اقوام کو پسماندہ رکھ کر تقسیم در تقسیم کے سازشوں کو عملی جامہ پہناناچاہتے ہیں کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ جب تک بلوچستان میں رہنے والے اقوام کوآپس میں دست وگریبان اور نان ایشوز ومصنوعی بحرانوں سے ملوث کرکے کسی بھی صورت میں اپنے مفادات حاصل نہیں کرسکتے بلوچستان قدرتی دولت سے مالامال پولیٹیکل اسٹریٹجک اہمیت کے حامل خطے کے عوام نان شبینہ کے محتاج اور اکیسویں صدی میںتمام تر بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہیں بلوچستان کو ان حالات سے نکالنے کیلئے یہاں پرآباد اقوام کو نہایت ہی باریک بینی ،سنجیدگی ،دور اندیشی ،علم ودانش کا عملی ثبوت دیتے ہوئے ہونے والے بحرانوں کے خلاف صف بندی کی خاطر متحد ومنظم ہوکر جدوجہد کرناہوگا اگر سنجیدگی سے حالات اور واقعات کا مقابلہ اور تیاری نہ کی گئی تو یہاں پر آباد قومیں مزید زیر نگر غلامی قومی استحصال، ،قومی حقوق واک واختیار سے محروم ہوتے جائیںگے انہوں نے کہاکہ بی این پی کے خلاف آج شروع ہونے والے سازشیں آج سے نہیں بلکہ اس کی ایک طویل تاریخ ہے پرویزمشرف کے دور آمریت سے لیکر پارٹی کے خلاف کریک ڈاو¿ن پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل حبیب جالب بلوچ،95کے قریب لیڈرز وکارکنوں کو ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے سے قتل وغارت کانشانہ بنایاگیا اور بہت سے کارکنوں کو تاحال لاپتہ کیاگیا اس کے باوجود بھی پارٹی کارکنان نہایت کی ثابت قدمی ،سیاسی بصیرت کے ساتھ مستقل مزاجی اورثابت قدمی کے ساتھ ہونے والے سازشوں سے بخوبی آگاہ ہے اور ان کامقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں ملک کے آمر ڈکٹیٹر مشرف اور اس کے کارندے بی این پی کی قومی جدوجہد کو کمزور نہیں کرسکا تو ان کے گماشتے بھی کسی بھی صورت اپنے ارمانوں میں کامیاب نہیں ہونگے ،انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں آباد بلوچ پشتون ہزارہ سیٹلرز ہندو ،عیسائی ،بدمت ودیگر تمام چھوٹی برادری بلوچستان کے جملہ قومی وسائل میں برابر کا حق رکھتے ہیں لہٰذا اس مشترکہ حق کے حصول کیلئے ضروری ہے کہ تمام اقوام مشترکہ جدوجہد میںاپنا حصہ ڈالیں اور صوبے کو ہرقسم کی نفرت،تعصب ،تنگ نظری ،بنیاد پرستی ،افرا تفری ،جہالت وپسماندگی ،دہشتگردی اور غربت سے نکالنے میں اپنا بھرپور کرداراداکرکے بالادست قوتوں کے عزائم وسازشوں کوناکام بنائیں۔


