ڈاکٹر مالک اینڈ ٹولہ مڈل کلاس سیاست کے نام پر نوجوانوں کو ورغلا رہا ہے،بی این پی
کوئٹہ (پ ر)بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان نے کہا گیا ہے کہ پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل ایسی شخصیت ہیں جن کا نام لے کر موقع پرست، مفاد پرست اور ضمیر فروش اپنی دکانداری چمکانے میں لگے ہوئے ہیں تاکہ انہیں کوئی روزگار ہاتھ آ سکے ہم بخوبی جانتے ہیں بی این پی فوبیا بہت سے لوگوں کو ہو گیا ہے اسی لئے من گھڑت اور منفی پروپیگنڈوں پر اتر آئے ہیں عوام میں اپنی ساکھ بچانے کیلئے تگ و دو کر رہے ہیں عوام کی پذیرائی حاصل کرنا ان کی خام خیالی ہے ڈاکٹر مالک اور ان کا ٹولہ جب اقتدار میں تھے اس وقت بلوچستان میں لاپتہ افراد کے مسئلے سمیت دیگر اہم ایشوز پر کوئی واضح موقف آتا تو کوئی بات تھی مگر ان لوگوں نے چند دنوں کی اقتدار کی خاطر بلوچستان کے تمام اجتماعی قومی اہم معاملات، چادر وچار دیواری کے تقدس، توتک جیسے سانحہ پر ان کی خاموشی، اجتماعی قبروں پر ٹھس و مس نہ ہونا سیاسی تابوت میں آخری کیل ثابت ہو چکا ہے یہ ٹولہ اقتدار، مراعات، کرپشن، اقرباء پروری اور مخبری کی سیاست میں اتنے آگے نکل چکے تھے کہ انہوں نے ضمیر فروشی اور بلوچوں نوجوانوں کے مسخ شدہ لاشوں کے مسئلے کو مسئلہ نہ گردانا بلکہ خود تو خاموشی اختیار کی اور دوسروں کو بھی تلقین کرتے رہے کہ آپ بھی خاموش رہیں بلوچستان کے لوگ جذباتی ہیں لاپتہ افراد کا مسئلہ سرے سے موجود نہیں ان کے قول و فعل، کردار اور عمل نے ثابت کر دیا کہ یہ بلوچ مسئلہ پر مخلص نہیں عرصہ دراز سے مڈل کلاس کی سیاست کرنے کی ترغیب دینے والے اور سردار اور نوابوں کے خلاف بولنے والے جب اقتدار میں براجمان ہوئے تو سرداروں اور نوابوں کی بڑی پارٹی بن چکی ہے نظریات، سیاست، اصول، قوم پرستی کی خود نفی کرتے رہے اقتدار ہاتھ میں آنے کے بعد پارٹی بانی ڈاکٹر حئی بلوچ کو دیوار سے لگانے اور وزیراعلیٖ مالک ٹولہ کی سرکاری مشینری کو ڈاکٹر حئی مرحوم کے خلاف استعمال کرتے رہے اور ان کو شکست دینے کیلئے مرکزی کونسلران کو مراعات، تحائف، ٹھیکے، کمیشن تک دیئے جس کی زندہ مثال ٹینکی لیکس اسکینڈل ہے جس کی مثال تک دیتے ہوئے کونسلران کو مراعات اور ایسے سکینڈلز کے خواب دکھائے مڈل کلاس کی سیاست کرنے والوں نے نوجوانوں کو دھوکہ دینے، دو طرفہ سیاست اور بلوچستان میں تاریخی کرپشن کے چیمپئن ثابت ہوئے اور بلوچستان کے عوام کو اتنا سادہ لوح سمجھا تھا اور یہ کہتے نہیں تھکتے کہ ہمارے ناک کے نیچے ٹینکی لیکس، بیکری لیکس سکینڈلز کی ہمیں خبر نہیں تھی یہ ان کی بلوچستان کے ساتھ ایمانداری تھی بلوچستان میں اپنے اتحادیوں کو ناراض نہ کرنے کی شرط پر مردم شماری، خانہ شماری میں انہوں نے تاریخی بدیانتی کی غیر قانونی طور پر آباد چالیس لاکھ افغان مہاجرین کو اتحادیوں کے خوف، کمزور حکومت کو بچانے کی خاطر تارکین وطن بولتے رہے بلوچ قوم تشخص، بقاء و سلامتی کو بھی خاطر میں نہیں لائے اقتدار اور مراعات کی لالچ نے انہیں ذہنی طور پر اتنا مفلوج کر دیا تھا کہ وہ بلوچستان کے سود و ضیاع کو بھول چکے تھے اب انہیں سردار اختر جان مینگل بی این پی فوبیا ہو چکا ہے اصولی سیاست اور بلوچستان کے اہم ایشوز، لاپتہ افراد کے معاملے پر پارٹی جو آواز بلند کر رہی ہے یہ سیاسی یتیموں کی آنکھوں میں کٹک رہی ہے بیان میں کہا گیا ہے کہ 1998ء میں جب ایٹمی دھماکہ ہوا اس کی مخالفت کی وجہ سے پارٹی کو دولخت کیا گیا اسٹیبلشمنٹ کی ایماء پر پارٹی کو دولخت کرنے والے کن صفوں میں شامل ہوئے پارٹی اگر اس وقت دھماکوں کی مخالفت نہ کرتی تو پارٹی نہ دولخت ہوتی نہ پارٹی سے مفاد پرست، قوم پرست علیحدگی اختیار نہ کرتے آج تاریخی گواہ ہے کہ وہ کن کن پارٹیوں میں ضمیر بیچتے رہے اور آخر کار نیشنل پارٹی کے قائد بن گئے انہی لوگوں نے ڈاکٹر حئی کو بھی نہیں بخشا ان کے سامنے سیاسی تجارت، مفاد پرستی ہے نظریاتی اصولی سیاست اور بہتر موقف نہ ہونے کی وجہ سے سیاسی یتیم سیاسی طور پر سکڑتے جا رہے ہیں اور ان کی تمام تر کوششیں آقاؤں کو خوشنودی کیلئے بی این پی کیخلاف منفی پروپیگنڈہ ہے پارٹی کے سامنے سیاست ایک عبادت ہے اسے عبادت کا درجہ دیتے ہیں جھوٹ، منافق کی سیاست سے ہمیشہ گریز کیا ہے ہر ذی شعور فرد کو اس بات کا علم ہے کہ پارٹی اقتدار میں ہو یا اپوزیشن میں اصولی موقف ہمیشہ رہا ہے بلوچستان کے لاپتہ افراد کی بازیابی، اجتماعی قومی مفادات کی خاطر غیر متزلزل انداز میں پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل و پارٹی کے دیگر اکابرین آواز بلند کرتے رہے ہیں نیشنل پارٹی کے دور اقتدار میں وہ چپ تھے بلوچستان کے وسائل کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے اور ان کی نیلامی کیلئے ان کو گواہ کی حیثیت دی جاتی رہی ڈاکٹر مالک ٹولہ اس بات پر بھی خوش تھے کہ ان کی بڑی حیثیت ہے بلوچ مفادات کو جتنا نقصان ان کے دور میں پہنچا کبھی نہیں پہنچا شاؤنسٹ اتحادیوں کے ذریعے ان کے وزراء یہ کہتے نہیں تھکتے کہ کوئٹہ کی سب سے بڑی بلوچ آبادی سریاب میں نہیں ان لاکھوں کی بلوچ آبادی نظر نہیں آتی تھی بیان میں کہا گیا ہے کہ اکیسویں صدی کے دہرا معیار نہیں چلے گا قول و فعل میں تضاد کی مزید گنجائش نہیں ان کا کردار بلوچ سیاست سے ختم ہو چکا ہے اب ڈوبتی ہوئی کشتی کو سہارا دینے کیلئے منفی بیانات اور ہرزہ سرائی کر رہے ہیں دوغلی پالیسی اور کارکنوں کو دھوکہ دینا بند کریں موجودہ مرکزی حکومت اور پی ڈی ایم کا نیشنل پارٹی حصہ ہے ورکروں کے سامنے سیاسی چیمپئن بننے کیلئے جھوٹے من گھڑت بیانات بند کریں یا برملا پی ڈی ایم اور وفاقی حکومت سے علیحدگی کا اعلان کریں ایک جانب پی ڈی ایم کے اجلاسوں میں شرکت، وزارت اور فنڈز کے مطالبے اور عدم فراہمی پر رونا رونا ہے دوسری جانب حکومت مخالف بیانات اور منفی پروپیگنڈہ سے گریزاں نہیں اب وہ دور گزر چکا ہے جب طبقاتی اور مڈل کلاس کی سیاست کے نام پر نوجوانوں کو وارغلایا جاتا ہے جب اقتدار ہاتھ آئے تو ڈاکٹر صاحب جیسے شخص کو پارٹی سے نکال دو جب اقتدار ہو تو بلوچستان کے تمام بڑے سردار، نوابوں کو اپنے ساتھ ملا لو جب بی ایس او کے نوجوانوں کے ساتھ ملو تو انہی کے خلاف پروپیگنڈہ کرو دوغلی سیاست اب ختم ہو چکی ہے ان کی سیاست صرف ایک نیوز ایجنسی میں بیٹھ کے مختلف ناموں سے بیانات لکھوانا ہے ان کے بیانات لکھوانا والا کردار ایک ہے اس کے بارے میں بلوچستان کا ہر ذی شعور جانتا ہے یہ کردار کون اور ان کے کارنامے ماضی میں کیا رہے ہیں ہم ان کی مجبوری سمجھ سکتے ہیں کہ جب اقتدار میں تھے تو عوام کی خدمت سے قاصر تھے اب جب بی این پی کے عوامی نمائندے پارٹی قائد کی قیادت میں عوامی خدمت میں مصروف ہیں بی این پی نے سیاست میں اصول کو ملحوظ خاطر رکھا اور جب ہم پی ڈی ایم اور موجودہ حکومت کا حصہ بنے تو بلوچستان کے مسئلے اور خصوصا لاپتہ افراد کے مسئلے کے حل کیلئے آواز بلند کی اسلام آباد کے ایوانوں میں جہاں ان کے کردار گونگوں اور بہروں کا تھا وہاں پر پارٹی کی آواز گونجی جب انہوں نے مری معاہدہ میں حکومت بنائی صرف ایک شرط رکھی کہ پانچ سال حکومت کرنے دی جائے تاکہ وہ بلوچستان میں کرپشن کی تاریخ رقم کر سکیں بیان میں کہا گیا کہ مرحوم ڈاکٹر صاحب کی قربانیاں کسی سے چھپی نہیں انہوں نے اپنے محسن کو اقتدار، مراعات، کرپشن کیلئے کی خاطر دیوار سے لگایا آخر کار ڈاکٹر صاحب نے مجبور ہو کر دوسری پارٹی بنائی مگر ان ضمیر فروشوں نے جو کھیل کھیلا وہ تاریخ کا سیاہ باب بن چکا ہے۔


