محمود خان اچکزئی کا بیان پارٹی آئین سے متصادم اور بلا جواز ہے، سیکرٹری جنرل پشتونخوا میپ

کوئٹہ (انتخاب نیوز) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سیکرٹری جنرل مختار خان یوسفزئی نے اپنے بیان میں گزشتہ روز پارٹی چیئرمین محمود خان اچکزئی کی جانب سے جاری بیان کو پارٹی آئین سے متصادم اور بلا جواز قرار دیتے ہوئے اسے یکسر مسترد کردیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پارٹی کے مرکزی ایگزیگٹو کو خارج کرنے کا طریقہ کار آئین کے باب چہارم میں موجود ہے اور مذکورہ اخراج کے لیے نہ تو مرکزی کمیٹی اور نہ ہی مرکزی ایگزیکٹو سے منظوری لی گئی ہے۔ مختار خان یوسفزئی نے کہا کہ گزشتہ شب پارٹی کے صوبائی صدر قہار ودان اور صوبائی ڈپٹی سیکرٹری شراف آغا کی سربراہی میں مسلح جتھوں نے پارٹی رہنماؤں کے ذاتی جائیدادوں پر قبضہ اور پارٹی کے خدمت گاروں اجمل خان اور بلال کو زدو کوب کرکے پشتون دشمن عمل کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے سیاسی اخلاقیات سے گری ہوئی حرکت اور ناقابل قبول قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ فوری طور پر قبضہ ختم کیا جائے۔ پارٹی کے سیکرٹری جنرل مختار خان یوسفزئی نے کہا کہ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کا اجلاس شیڈول کے مطابق 23 نومبر بروز بدھ صبح دس بجے منعقد ہوگا، جس میں پارٹی کے بیانیہ، آئندہ کے لائحہ عمل اور پارٹی سے متعلق دیگر معاملات پر تفصیلی بحث کی جائیگی۔ اس سلسلے میں مرکزی کمیٹی کے معزز اراکین کو باقاعدہ طور پر دعوت نامے بھیجے گئے ہیں اور معزز اراکین سے وقت مقررہ پر اجلاس میں شرکت کی اپیل کی گئی ہے۔ مختار خان یوسفزئی نے پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں کو پرزور تاکید کی ہے کہ وہ مستقل مزاجی، ثابت قدمی اور صبر و تحمل کے ساتھ اپنی قومی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے ہر قسم کی اشتعال انگیزی سے دور رہیں اور منفی و ناشائستہ طرز عمل سے اجتناب کریں اور سوشل میڈیا پر رواں طوفان بدتمیزی کا حصہ نہ بنے بلکہ یکطرفہ طور پر اپنے آپ کو پارٹی ڈسپلن کا پابند بنائیں اور ہر قسم کے غیر سیاسی اور غیر اخلاقی تنقید سے ہر حالت میں گریز کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں