غیر قانونی ماہی گیری میں طاقتور مافیا اور فشریز افسران املوث ہیں، نیشنل پارٹی

حب(نمائند ہ انتخاب)نیشنل پارٹی کے صوبائی سیکرٹری ماہی گیری آدم قادر بخش نے جمعرات کے روز نیشنل پاٹی کے مرکزی رہنماء اشرف حسین،صوبائی نائب صدر خورشید علی رند،چیئرمین کامریڈ عمران بلوچ،ظفر اللہ ڈومکی،ڈام کے ماہی گیر وڈیرہ عبدالرحمن ن،دریا خان،شوکت اور عبدالحمید ڈگارزئی کے ہمراہ لسبیلہ پریس کلب حب میں ایک پُر ہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ ساحل بلوچستان نایاب سمندری حیات سے مالا مال ہے اور ہزاروں سالوں سے سمندر کے کنارے آباد لوگوں کا ذریعہ معاش سمندری حیات سے منسلک ہے اور یہ ایک قدرتی نعمت سے کم نہیں جیسے قدرت نے ان علاقوں کو عطا فرمائی ہے ساحل بلوچستان خصوصاً ضلع گوادر، لسبیلہ اور حب کے مچھروں کا گزر وبسر اسی سے وابستہ ہے لیکن گزشتہ کئی سالوں سے ایک طاقتور مافیا اپنی طاقت اور پیسے کے بل بوتے پر ساحل بلوچستان اور سمندری حیات کی نسل کشی پر تلا ہوا ہے غیر قانونی طور پر ممنوعہ جالوں گجہ نیٹ اور وائر نیٹ کے ذریعے سمندری حیات کی نسل کشی میں مصروف ہے ممنوعہ جالوں کے ذریعے غیر قانونی طور پر بلوچستان کے سمندری حدود میں اس مافیا کو کھلا چھوڑ دیا گیا ہے جس سے مقامی ماہی گیر بری طرح سے متاثر ہورہے ہیں اور ساحل بلوچستان سے سمندری حیات ختم ہوتا جارہا ہے بلوچستان کے ماہی گیر نان شبینہ کا محتاج ہوتے جارہے انھوں نے کہاکہ بلوچستان میں غیر قانونی ٹرالر نگ اور ممنوعہ جالوں کا استعمال بلوچستان کے محکمہ فشریز کے افسران کی ملی بھگت سے ہو رہا ہے غیر قانونی جالوں سے ساحل بلوچستان میں شکار کے لیے سندھ و بلوچستان کے ٹرالر ز کو بھتہ لے کر بلوچستان کے سمندری حدود میں غیر قانونی شکار کی اجازت دی جارہی ہے اور ستم ظریفی دیکھیں اس عوام دشمن اقدامات میں محکمہ فشریز بلوچستان سمیت حکومت بلوچستان اور اس کے اتحادی بھی شامل ہیں اور بھتہ سے آنے والے رقم کے بندر بانٹ میں حصہ دار ہیں اور بلوچستان محکمہ فشریز لسبیلہ و گوادر کے افسران اس غیر قانونی عمل میں ٹرالر ز اور والی رنیٹ مافیا کے معاون و مددگار ہیں غیر قانونی شکار کی روک تھام کے لیے موجود گن شپ بوٹس کو ناکارہ بنادیا گیا ہے تاکہ مافیا کے خلاف کوئی کاروائی عمل میں نہ آسکے۔ عوامی اور سیاسی پارٹیوں کے پریشر پر بعض اوقات معمولی کاروائیاں بھی کرتے ہیں اور ان ٹرالرز کے خلاف انتہائی کمزور کیس بناتے ہیں تاکہ یہ لوگ عدالت سے آسانی کے ساتھ بری ہو جائیں انھوں نے کہاکہ ہمارا مطالبہ ہے کہ محکمہ فشریز کے کرپٹ افسران کو فارغ کیا جائے۔ محکمہ فشریز کے پیٹرولنگ ٹیم کو با اختیار بنایا جائے تا کہ غیر قانونی ماہی گیری کے خلاف بھر پور اقدامات کر کے ساحل بلوچستان خصوصا گوادر لسبیلہ اور حب کے عوام کے حق روزگار کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ اور پکڑے جانے والے ٹرالروں اور لانچوں کے مالکان کے خلاف کیس بنایا جائے انھوں نے کہاکہ ہمارے دوستوں کو ڈام بندر وائر نیٹ مافیا کی جانب سے دھمکی دی جاری لہٰذا ہمارے دوستوں کو کسی قسم کی نقصانا تو اس کا زمہ دار ی وائر نیٹ مافیا کے سرغنہ پر ویز دود حاجی حمید حاجی کریم بخش طارق نامی شخص ہونگے ایک سوا ل کے جوا ب میں نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے کہاکہ بلوچستان کے سمندر میں غیر قانونی ٹرالنگ اور ممنوعہ جال استعمال کرنے کے خلاف سے پہلے نیشنل پارٹی نے آواز اٹھائی اور ہر فورم پر غیر قانونی ٹرالنگ ممنوعہ جالوں کے استعمال کے خلاف احتجاج کیا اور آج بھی نیشنل پارٹی اس حوالے سے سراپا احتجاج ہے اور بلوچستان کے ماہی گیروں کے حقوق کیلئے اپنی جدوجہد کو جاری رکھی ہوئی انھوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ بلوچستان کے سمندر میں غیر قانونی ٹرالنگ اور ممنوعہ جالوں کے استعمال میں محکمہ فشریز اور حکوت بلوچستان اور اسکے تحادی اور چند ماہی گیر بھی شامل ہیں ان کی آشیر با د سے کراچی ٹرالر بلوچستان کے سمندری حدود میں داخل ہو کر دیدہ دلیری سے غیر قانونی ٹرالنگ کے ساتھ وائرنیٹ کا استعمال کرکے سمندری کی حیات کی کشی میں مصروف ہیں انہیں روکنے وٹوکنے والا کوئی نہیں جبکہ کوئی احتجاج ہوتا ہے تو وقتی طور پر محکمہ فشریز دکھاوئے کی کاروائی کرنے کے بعد پھر سے خاموش ہو جاتا ہے اور سندھ سے آنے والے ٹرالر وائرنیٹ اور غیر قانونی ٹرالنگ شرو ع جاتے ہیں ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ بلوچستان کے سمندر میں غیر قانونی ٹرالنگ کے حوالے سے مولانا ہدیت الرحمن نے 32تک احتجاج پر بیٹھے رہے تو نیشنل پارٹی نے اس کی حمایت کی تھی انھوں نے کہاکہ 1971سے ہی بلوچستا ن کے سمندرمیں وائر گجہ نیٹ کو ممنوعہ قرار دیا گیا ہے جسکی ہر گز اجازت نہیں دی جائے گی اس عمل کی فورم پر مخالفت کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں