اعظم سواتی تک وکلا کی ٹیم کو رسائی نہیں دی جارہی، کچلاک میں دائر درخواست کی قانونی حیثیت نہیں، وکیل کا موقف

کوئٹہ (انتخاب نیوز) تحریک انصاف کے مرکزی رہنماو سینیٹر اعظم سواتی کے وکیل سید اقبال شاہ ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ اعظم سواتی تک وکلاکی ٹیم کو رسائی نہیں دی جارہی سینیٹر اعظم سواتی سینیٹ کے رکن ہیں اعظم سواتی کے ساتھ ایسا رویہ اور نارواسلوک کیا جارہا ہے تو عام افراد کیساتھ کیسا سلوک روا رکھا جاتا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو اعظم سواتی کی وکلاٹیم کے دیگر رہنماں علی حسن بگٹی ایڈووکیٹ، شمس رند ایڈووکیٹ کے ہمراہ سیشن اینڈ ڈسٹرکٹ کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹر اعظم سواتی کو قانون کے مطابق کچلاک کی عدالت میں پیش کرنا چاہیے،اسلام آباد مجسٹریٹ نے اعظم سواتی کو 4 دسمبر تک پیش کرنے کا حکم دیا تھا، اگر سینیٹر اعظم سواتی کو آج پیش کیا جائے گا تو ممکن ہے ڈیوٹی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے، اسلام آباد میں اعظم سواتی کو ویڈیو کال کے ذریعے مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا تھا۔ ممکن ہے سیکورٹی کا بہانہ بناکر ویڈیو لنک کے ذریعے انہیں مجسٹریٹ یا عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔ ہماری آئی جی پولیس بلوچستان سے درخواست ہے کہ وہ سینیٹر اعظم سواتی کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کریں۔ہمیں اطلاع ہے کہ اعظم سواتی کو سی ایم ایچ منتقل کیا گیا ہے، ابھی یہ کنفرم نہیں کہ اعظم سواتی سی ایم ایچ میں ہیں یا سی آئی اے کی تحویل میں ہیں حالانکہ ہم نے اعظم سواتی کی ضمانت کیلئے درخواست کچلاک مجسٹریٹ کے پاس جمع کرائی ہے کچلاک مجسٹریٹ کی جانب سے درخواست منظوری کے بعد معاملے سے متعلق فریقین کو نوٹس جاری کردیئے گئے، بلوچستان کی عدالتوں سے انصاف کی توقع ہے، سینیٹر اعظم سواتی کی صحت کے حوالے سے تشویش ہے، کچلاک میں دائر درخواست کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں