پاسداران انقلاب کے 2 ارکان کا قتل، شہری کو خدا کیخلاف جنگ چھیڑنے کے جرم میں سزائے موت

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران میں حکومت مخالف مظاہروں میں شریک ایک اور شہری کو سیکورٹی فورسز کے 2 ارکان کو قتل کرنے کا مجرم قرار دیتے ہوئے سرعام پھانسی دے دی۔ ایران کی انقلابی عدالتوں کے نمائندہ خبر رساں ادارے کے مطابق ماجد رضا نامی شہری کو مشہد میں سرعام پھانسی دی گئی جسے سیکورٹی فورسز کے 2 اہلکاروں پر چاقو سے حملہ کرنے کے بعد ’خدا کیخلاف جنگ چھیڑنے‘ کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ خیال رہے کہ 8 دسمبر کو حکومت مخالف مظاہروں کے دوران سڑک بند کرنے اور مسلح افواج کے اہلکار کو زخمی کرنے کے الزام میں محسن شکاری نامی شہری کو پھانسی دی گئی تھی جو مظاہرین کو دی جانے والی پہلی سزا تھی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ محسن شکاری کو پاسداران انقلاب کی ذیلی تنظیم کے رکن کو چاقو سے زخمی کرنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے کہا ہے کہ محسن شکاری کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اسے اعتراف جرم کرنے پر مجبور کیا گیا۔ عدالت نے کہا کہ ملزم پر جھگڑا کرنے، قتل کے ارادے سے ہتھیار اٹھانے، دہشت پھیلانے اور معاشرے کا امن و امان خراب کرنے کا جرم ثابت ہوا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں