کوئٹہ میں سردی کی شدت میں اضافہ، گیس غائب پریشر میں کمی، بجلی کی طویل بندش سے لوگوں کا جینا محال
کوئٹہ (انتخاب نیوز) سردی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی گیس اور بجلی کی غیر اعلانیہ اور طویل لوڈشیدنگ معمولات زندگی بری طرح متاثر ضلع نوشکی میں کیسکو کی جانب سے سردی کی شدت کے ساتھ ہی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور بجلی کی وولٹیج میں کمی کا سلسلہ شدت اختیار کر چکا ہے شہر میں چودہ سے سولہ اور دیہی فیڈرز میں اٹھارہ سے بیس گھنٹے روزانہ بجلی کی بندش معمول بن چکی ہے اور ساتھ ہی بجلی کی آنکھ مچولی الگ سے صارفین کے لیئے عذاب بن چکی ہے بجلی کی غیر اعلانیہ بندش سے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہیں گھریلوں کام کاج طلبا کی پڑھائی سرکاری وغیر سرکاری دفاتر میں کام دکانوں میں بجلی سے منسلک کام ٹھپ ہوکر رہ گئے ہیں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے مغرب سے پہلے دکانیں بند کرکے دکاندار گھروں میں محصور ہوکر رہ جاتے ہیں ہسپتال میں متبادل انتظام نہ ہونے سے بجلی لوڈشیڈنگ کی صورت میں اسٹاف مریض اور تیماردار انتہائی پریشانی سے دوچار ہوتے ہیں ایل پی جی پلانٹ کا انحصار بجلی پر بجلی کی آنکھ مچولی اور غیر اعلانیہ بندش سے گیس پلانٹ بھی بند رہتی ہے جس سے صارفین کو ضرورت کے وقت گیس دستیاب نہیں ہوتی ایل پی جی پلانٹ کے دمہ دار بھی بجلی لوڈشیڈنگ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے گیس کی فراہمی بند کر دیتے ہیں اور گیس اسٹاک ختم ہونے کھبی تیکنیکی خرابی اور مختلف حیلوں بہانوں سے گیس کی نعمت سے صارفین کو محروم رکھنا روز کا معمول بن چکا ہے بجلی اور گیس کی طویل بندش پر سیاسی جماعتوں انجمن تاجران سول سوسائٹی بالخصوص عوامی نمائندوں نے مکمل خاموشی اختیار کر لی ہے یہی وجہ ہے کہ کیسکو اور سوئی سدرن گیس کمپنی خاموشی سے لوگوں کو اذیت میں مبتلا کر دیا ہے بجلی اور گیا کی صارفین نے اعلی حکام سے صورتحال کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔


