نوشکی ،ریکوڈک معاہدے کیخلاف نیشنل پارٹی وبی ایس او پجار کے زیر اہتمام پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ
نوشکی(انتخاب نیوز )نیشنل پارٹی کے مرکزی کال پر ریکوڈک معاہدے کے خلاف نیشنل پارٹی بی ایس او پجار کے زیر اہتمام پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ۔احتجاجی مظاہرے سے نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری خیربخش بلوچ رخشان ریجنل سیکرٹری فاروق بلوچ ضلعی صدر رب نواز شاہ ڈپٹی ریجنل سیکرٹری چراغ الدین ضلعی جنرل سیکرٹری بیبرگ بلوچ بی ایس او پجار کے مرکزی جونیئر جوائنٹ سیکرٹری وکرم بلوچ سی سی ممبر آغا حق نواز شاہ ڈسٹرکٹ یوتھ سیکرٹری آغا داؤد شاہ ڈسٹرکٹ لیبر سیکرٹری رازق زہری بی ایس او پجار کے زونل سیکرٹری مشتاق بلوچ آصف خیر نے خطاب کیا مقررین نے کہا کہ جمہوریت کے دعوے داروں نے 73 کے آئین کے بھر خلاف جاکر 18 وین ترمیم کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ریکوڈک کو وفاق کے حوالے کیا جوکہ 73 کی آئین کے خلاف اور 18 ویں کو روندے کی مترادف ہے آئین کی اس خلاف ورزی میں بلوچستان کی ڈمی صوبائی حکومت اور ڈمی وزیراعلیٰ کو لانے میں ان جماعتوں کا گناہ شامل ہے جنہوں نے اس کو وزیراعلیٰ بنانے میں اہم کردار ادا کیا آج بلوچستان کی ساحل وسائل کو کوڑیوں کے دام بیھجا جارہا ہے اور یہی جماعتیں جوکہ ساحل وسائل کی حفاظت کی دعوے دار تو ہے لیکن آج ریکوڈک کو کوڑیوں کے دام بیجھا جارہا ہے لیکن انہوں نے چھپ کی ساد لی ہے بلوچستان کی وسائل سے پورا ملک کو چلایا جارہا ہے لیکن بلوچستان کے باسیوں کو کوئی بھی سہولت میسر نہیں ہے سیندک پروجیکٹ سے بلوچستان کو زکوۃ کی پیسے تک نہیں ملتے لیکن بلوچستان کی ترقی کی گن گائے جارہے ہیں جوکہ بلوچستان کے عوام کے ساتھ ظلم کی انتہا ہے بلوچستان آج بھی انتہائی پسماندگی کا شکار ہے لیکن بلوچ اکابرین کی جدوجہد کو ایک پھر پاوں تلے روندا جارہا ہے کیونکہ یہی اکابرین کی سیاسی جدوجہد کی بدولت 73 آئین لایا گیا اور 18ویں ترمیم بھی انہی کی بدولت لائی گئی لیکن آج ان اکابرین کی سیاسی جدوجہد کو پسے پشت ڈال کر ایک مرتبہ پھر بلوچستان کے ساحل وسائل کو ایک منصوبے کے تحت وفاق کے حوالے کیا گیا ہے جوکہ یہاں کی محکوم اقوام کے ساتھ ظلم کی بربریت ہے نیشنل پارٹی ان مضموم عزائم کے خلاف سیسہ پلائی کی دیوار ثابت ہوگی اور ہر پلیٹ فارم پر اس خود ساختہ قانون سازی کے خلاف جدوجہد جاری رکھے گی


