ٹیچنگ ہسپتال پنجگور ڈاکٹر ز کی کمی اور سہولیات کا فقدان
تحریر: حضور بخش قادر
ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال پنجگور جس کو ٹیچنگ ہسپتال پنجگور کا درجہِ دیا گیا مگر سہولیات کے فقدان اور ڈاکٹرز کی کمی تاحال برقرار ہے۔دو درجن کے قریب ڈاکٹرز میں سے صرفِ دو سے تین ڈاکٹرز ڈیوٹی پر موجود ہوتے ہیں باقی کہاں ہیں ؟ اگر چہ ہسپتال کے سالانہ کروڑوں روپے فنڈرز مریضوں کو سہولیات دینے اور ان کے فلاح و بہبود کے لیے جاری ہونے ہیں مگر انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پنجگور کے لوگوں کو معمولی بیماری کے علاج کے لیے تربت کراچی اور کوئیٹہ خضدار جانا پڑتا ہے ٹیچنگ ہسپتال پنجگور میں بلڈنگ تو بہٹ ہیں مگر بلڈنگ سے انسانوں کا علاج نہیں ہوسکتا پنجگور سے تعلق رکھنے والے تقریباً ڈیرھ سو یادو سو ڈاکٹرز صاحبان بلوچستان کے مختلف علاقوں کوئیٹہ میں ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں یہ بات ایک لمحہ فکریہ کہ ڈاکٹرز صاحبان پنجگور سے کیوں دلبراشتہ ہیں یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ھے پنجگور میں جب کوئی گن شاٹ یا ایمرجنسی کیس ہوتا ہے تو مریض کے رشتہ دار تمام تر غصے ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف پر نکالتے ہیں بعض اوقات نوبت گالی گلوج اور توڑ پھوڑ تک آتی ہے اگر چہ یہ سہولیات کے فقدان کا درد عمل ہوتا ہے مگر یہ طریقہ کار غلط ہوتا ھے اور جو ڈاکٹرز صاحبان موجود ہوتے ہیں ان کو ہم داد دیتے ہیں کہ پنجگور میں رہ کر تمام مشکلات برداشت کرکے مریضوں کا علاج جاری رکھے ہوئے ہیں اگر عوام الناس کے رویوں میں تبدیلی نہ آئی تو یقیناً وہ بھی دلبراشتہ ہوجاتے ہیں اور مجبور ہوکر اپنے تبادلے کرواتے ہیں ٹیچنگ ہسپتال پنجگور جوکہ 5 لاکھ سے زائد آ بادی کو کور کرتی ھے دوسرے قریبی اضلاع کے مریضوں کو بھی پنجگور لایا جاتا ہے پنجگور ہسپتال میں سیاسی لوگ سیاست کرتے چلے آرہے ہیں اس نے اپنے دور اقتدار میں سہولیات نہ دیا ہم دینگے وغیرہ وغیرہ ہم عوام گزشتہ 30 سالوں سے سنتے چلے آرہے ہیں مگر ہسپتال آگے کی بجائےپیچھے جارہاہے ؟ کیا اس سلسلے میں زمہ داران علمائے کرام سیاسی جماعتوں سماجی شخصیات سول سوسائٹی اور دیگر نے سوچا ھے کیا مشکل حالات میں علاقے کے کروڈ پتی اور ارب پتی مخیر حضرات نے غریب مریضوں کے علاج معالجہ کے لیے ایک روپے کا تعاون کیا ھے کسی غریب اور لاچار مریض کو ایمبولینس سروس دی ھے کیا سیاسی جماعتوں نے ہسپتال کے مسائل کو سنجیدگی سے لی ھے ٹوکن اسٹیکرز سسٹم اور دیگر معاملات پر زمین آسمان ایک کرنے والے ہسپتال کے معاملات پر کیوں خاموش ہیں ؟ ٹیچنگ ہسپتال پنجگور کے لوگوں کا واحد سہارا ھے ایمرجنسی کی صورت میں امیر غریب سب کو واسطہ پڑتا ہے بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم تو علاجِ کے لیے کراچی یا بیرون ملک جاتے ہیں مگر سب کو فرسٹ ایڈ کے لیے واسطہ پڑے گا اس لیے اس کی بہتری کے لیے سب کو سوچنا اور فکر مند ہونا چاہیئے ٹیچنگ ہسپتال پنجگور کے ساتھ ساتھ 50 بڈڈ ہسپتال خداباداں کو بھی فعال بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں چند ماہ قبل پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن اور پاکستان پیرامیڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن پنجگور نے ٹیچنگ اسپتال کے بارے میں جو حقائق بیان کئے تھے ان مین ڈاکٹروں کی کمی اور سہولتوں کی ققدان پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا ٹیچنگ اسپتال پنجگور میں ڈاکٹروں کی کمی اور ادویات سمیت دیگر سہولتوں کی فقدان کے باعث ٹیچنگ ہسپتال میں موجود ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ائے روز واقعات کے دوران شعبہ حادثات میں ڈاکٹروں کی عدم موجودگی سے پیرامیڈیکل اسٹاف اور دیگر اسٹاف کو زدکوپ اور گالی گلوچ کا سامنا کرنا پڑتا ہے ڈی ایچ کیو اسپتال پنجگور کو صرف کاغذوں کی حدتک ٹیچنگ ہسپتال کا تو درجہ دے دیا گیا ہے لیکن ثیچنگ ہسپتال نہ ڈاکٹرزنہ پیرامیڈیکل اسٹاف کا اضافہ اور نہ ہی ادویات اور سہولتیں فراہم کی گئی ہے ہر کوئی اسپتال میں اکر ہمیں ٹیچنگ ہسپتال کا طعنہ دیکر گالی گلوج سے نواز کر واپس جاتے ہیں حالانکہ ٹیچنگ ہسپتال پنجگور اپنے محدود وسائل ڈاکٹروں کی کمی کے باوجود عوامی خدمت میں سرشار دکھی انسانیت کی خدمت کررہا ہے لیکن سہولتوں کی فقدان کے باعث ہسپتال میں موجود ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل کو عوام کی غیر مناسب رویہ سے انتہائی دقت کا سامنا کرنا ہڑتا ہے اور عوام کی رویہ سے نالاں ڈاکٹروں نے پنجگور انے اور ڈیوٹی دینے سے بھی معزرت کی ہے جو انتہائی افسوسناک عمل ہے انہوں نے پنجگور میں سیاسی جماعتوں کی رویہ پر بھی افسوس کیا سیاسی جماعتیں دیگر مسائل پر سخت احتجاج جلسہ جلوس اور ریلی نکال سکتے ہیں لیکن کسی سیاسی جماعت نے اج تک ٹیچنگ ہسپتال میں سہولتوں کی فقدان اور ڈاکٹروں کی کمی کے بارے میں احتجاج بھی کیاگیا مگر کو۔ں سنے گا ٹیچنگ ہسپتال کو صرف ڈاکٹروں اور پیرامیدیکل کے کندوں پر ڈال کر صرف ڈاکٹروں کو برابھلا کہنے تک خود کو محدود کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیچنگ ہسپتال پنجگور میں ڈاکٹروں پیرامیڈیکل اسٹاف کی کمی اور ادویات کی فقدان کے باعث ہسپتال میں موجود ڈاکٹر اور پیرامیدیکل اسٹاف شدید مشکلات کا سامنا کررہے ہیں ۔ روزانہ ڈاکٹر اور پیرامیدیکل اسٹاف عوام کی غیر مناسب رویہ کی وجہ سے تزلیل کا شکار ہیں، صرف چند ڈاکٹرز ڈیوٹی کررہے ہیں۔ ہسپتال میں جو ڈاکٹرز ڈیوٹی پر موجود ہیں، انکی حوصلہ افزائی کے بجائے انھیں روز گالی گلوج کا سامنا کرنا پڑ تا ھےجو انتہائی غیر مناسب رویہ ہے۔ ٹیچنگ ہسپتال میں ڈاکٹروں کی کمی کو دور کرکے ادویات سمیت دیگر سہولیات فراہم کیا جائے۔ پنجگور میں ڈاکٹر ز سمیت کسی بھی شعبے کے لوگوں کو عزت و احترام نہیں دیا جاتا۔ اس سلسلے میں لوگوں میں شعور آگاہی کی ضرورت ہے ۔ اس سلسلے میں علمائے کرام آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی سول سوسائٹی اور سیاسی اور سماجی شخصیات سے اپیل ھے کہ ہسپتال کی بہتری کے لیے ایک پروگرام منعقد کیا جائے۔


