افغان حکومت کی جانب سے خواتین کی اعلی تعلیم پر پابندی پریشان کن ہے، او آئی سی
قاہرہ (مانیٹرنگ ڈیسک) اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)کی افغان حکومت کی جانب سے خواتین کی اعلیٰ تعلیم پر پابندی پریشان کن فیصلہ قرار، شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کر دیاہے۔ او آئی سی نے ایک بیان میں افغان انتظامیہ کی جانب سے کیے گئے فیصلے کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیکرٹری جنرل اور افغان معاملات پر ان کے خاص ایلچی کی جانب سے افغان حکومت کو بار بار ایسے اقدامات سے خبردار کیا گیا تھا۔ او آئی سی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طحہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں خواتین کی تعلیم تک رسائی میں رکاوٹ ڈالنے کا معاملہ رکے گا نہیں اور افغان حکومت کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچائے گا۔ بیان کے مطابق ان کے خیال میں یہ فیصلہ دراصل افغان خواتین کو تعلیم، روزگار اور سماجی انصاف جیسے اپنے بنیادی حقوق تک رسائی سے روکنے کی ایک کوشش ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ او آئی سی افغانستان کی حکومت کے ساتھ اپنے روابط کی پالیسی پر قائم ہے تاہم اس فیصلے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ او آئی سی افغان حکومت سے اپنے کیے ہوئے وعدوں کے پیش نظر اپنے فیصلوں کے ذریعے اعتماد بحال کرنے کیلئے خواتین کی تعلیم پر لاگو پابندی کا یہ فیصلہ فوری طور واپس لینے کا مطالبہ کرتی ہے


