افغانستان میں صنفی ظلم وستم معاہدہ روم کے تحت انسانیت کیخلاف جرم کے زمرے میں آسکتا ہے، گروپ 7

کابل (مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا کے سات بڑے صنعتی ملکوں کے وزرائے خارجہ نے کہا ہے کہ افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ افغان حکومت کا سلوک انسانیت کے خلاف جرم کے مترادف ہوسکتا ہے۔ انھوں نے افغانستان میں یونیورسٹی میں خواتین کے داخلے پر عائد پابندی کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ دنیا کے سات امیر ممالک کے کلب کے وزرا نے ورچوئل مذاکرات کے بعد ایک بیان میں کہا کہ خواتین کو عوامی زندگی سے بے دخل کرنے کے لیے بنائی گئی پالیسیوں کے نتائج ہمارے ممالک کے افغان حکومت کے ساتھ تعلقات پر مرتب ہوں گے۔ افغانستان کے حکمران نے گزشتہ سال اقتدار میں واپسی کے بعد نرم حکمرانی کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے اس ہفتے خواتین کو اعلیٰ تعلیم سے محروم کرنے کا اعلان کردیا ہے اور اس کے ساتھ عالمی غم وغصے کا رخ اپنی جانب موڑلیا ہے۔ سخت گیر حکمرانوں نے پہلے ہی مارچ میں لڑکیوں کو ثانوی اسکولوں میں جانے سے روک دیا تھا۔ جی سیون کے وزرا نے کہا کہ دونوں فیصلوں کو بغیر کسی تاخیر کے واپس لیا جانا چاہیے۔ انہوں نے ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ صنفی ظلم وستم معاہدہ روم کے تحت انسانیت کیخلاف جرم کے زمرے میں آسکتا ہے۔ افغانستان بھی اس معاہدے کا ایک ریاستی فریق ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جی سیون کے رکن ممالک بین الاقوامی قانون کے تحت افغانستان میں انسانی حقوق کی پاسداری کے مطالبے میں تمام افغانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ جی سیون کے صدر ملک جرمنی کی وزیر خارجہ اینالینا بیربوک نے افغانستان میں خواتین کی یونیورسٹی کی تعلیم پر پابندی کو پتھر کے دورکی جانب ایک قدم قرار دیا ہے۔ انھوں نے برلن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کو اب نہ صرف یونیورسٹیوں میں داخلے کی اجازت نہیں بلکہ انہیں پارکوں میں جانے کی اجازت نہیں ہے، انہیں کھلے ہوئے دروازے سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہے، انہیں سیکھنے کی اجازت نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان حکام وہ سب کچھ چھین رہے ہیں جو افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کے لیے زندگی کا باعث بنتا ہے اور محض زندہ رہنے سے کہیں بڑھ کر ہے۔ واضح رہے کہ گروپ سات میں برطانیہ، کینیڈا، اٹلی، فرانس، جرمنی، جاپان اور امریکا شامل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں