تربت منی انڈسٹریل اسٹیٹ قیام خواب کام ایک سال سے تعطل کا شکار

تربت (بیورورپورٹ) تربت‘ منی انڈسٹریل اسٹیٹ کی تعمیر کاکام گزشتہ ایک سال سے تعطل کا شکار، عوامی وکاروباری حلقوں کا تعمیراتی کام جلد مکمل کرانے کامطالبہ، محکمہ انڈسٹریز بلوچستان نے 1990ء کی دہائی میں جوسک کے مشرق میں بلیدہ کراس کے قریب 50ایکڑ اراضی منی انڈسٹریل اسٹیٹ کے قیام کیلئے مختص کرائے تھے، گزشتہ دور حکومت میں اس منصوبہ کی تعمیر کی باقاعدہ منظوری دی گئی تھی اور اس کے مختلف کمپوننٹس پر باقاعدہ کام شروع کردیا گیا، ایس ڈی او ریاض زہری کی مسلسل نگرانی اور منصوبہ سے اخلاص کی بدولت منی انڈسٹریل کی تعمیراتی کام میں کافی پیش رفت ہوئی تاہم گزشتہ سال ستمبر میں ایس ڈی او ریاض زہری کا تبادلہ کردیاگیا جس کے بعد سے منی انڈسٹریل پر کام تعطل کا شکار ہوگیا ہے اور تعمیراتی کام مکمل طورپر رکاہواہے، ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی منصوبہ پر ایک نئی اینٹ بھی نہیں رکھی گئی جس سے تربت میں منی انڈسٹریل اسٹیٹ کاقیام ایک خواب بن کر رہ گیا، یہاں کے تاجر وکاروباری طبقہ اس منصوبہ کے آغاز سے اس خوش فہمی میں تھے کہ سی پیک شاہراہ پر منی انڈسٹریل اسٹیٹ کی تکمیل سے یہاں پر چھوٹے پیمانے پر صنعتوں کاقیام ممکن ہونے سے یہاں پرکاروباری سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہوگا اورکاروباری طبقہ کو سرمایہ کاری کے مواقع میسر ہونے کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر بے روزگار نوجوانوں کو روزگارکے مواقع بھی ملیں گے مگر منی انڈسٹریل اسٹیٹ کے کام کے تعطل سے کاروباری طبقہ کے ارمانوں پرپانی پھرگیاہے، کاروباری طبقہ اور عوامی حلقوں نے محکمہ انڈسٹریز بلوچستان کے سیکرٹری ودیگرمتعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ منی انڈسٹریل اسٹیٹ تربت منصوبہ کوجلد سے جلد پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے سابق ایس ڈی او ریاض زہری کو دوبارہ منصوبہ پر تعینات کرائیں تاکہ منی انڈسٹریل اسٹیٹ کے تعمیراتی کام کوبحال کرکے اسے پایہ تکمیل تک پہنچاسکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں