کوروناوبا ، آسٹریلیا اور کینیڈا میں چین سے آنیوالے مسافروں پر پابندیاں مزید سخت

سڈنی (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا اور برطانیہ کے بعد آسٹریلیا اور کینیڈا نے بھی چین سے آنیوالے مسافروں کیلئے کورونا پابندیاں سخت کردیں ۔چین نے تین سال بعد 8 جنوری سے کورونا پابندیاں نرم کرکے تمام بارڈر کھولنے کا اعلان کر رکھا ہے، زیرو کووڈ پالیسی میں نرمی کے معاملے پر مختلف ممالک کی جانب سے سفری پابندیوں میں اضافہ کیا جارہا ہے ۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق چین میں کورونا کیسز کے بڑھتے کیسز کے پیشِ نظر آسٹریلیا نے چین سے آنے والے مسافروں کے لیے منفی کورونا ٹیسٹ لازمی قرار دے دیا۔5 جنوری سے آسٹریلیا میں چین سے آنے والوں کو منفی کورونا ٹیسٹ سرٹیفکیٹ دکھانا ہوں گے۔اس حوالے سے آسٹریلوی وزیرِ صحت کا کہناتھا کہ ہانگ کانگ اور مکاو سے آنے والے مسافروں پر بھی پابندی نافذ ہوگی ۔کورونا وائرس کی نئی لہر کو روکنے کیلئے مراکش 3 جنوری سے چین سے آنیوالے تمام مسافروں پر پابندی عائد کرے گا، خواہ ان کا تعلق کسی بھی ملک سے ہو۔برطانوی محکمہ صحت نے چین سے برطانیہ آنے والی پروازوں کے مسافروں کیلئے کورونا کا منفی ٹیسٹ لازمی قرار دے دیا ہے۔برطانوی محکمہ صحت کے مطابق 5 جنوری سے چین سے برطانیہ آنے والے مسافروں کو روانگی سے قبل کیے گئے ٹیسٹ کی منفی رپورٹ دکھانا ہوگی۔برطانوی ہیلتھ سیکورٹی ایجنسی کے مطابق 8 جنوری سے سرویلنس کا آغاز بھی ہوگا اور چین سے آنے والے مسافروں کے ٹیسٹ سیمپل بھی لیے جائیں گے۔برطانوی سیکرٹری صحت اسٹیوبارکلے کا کہنا ہے کہ حکومت متوازن اور احتیاطی تدابیر اختیار کر رہی ہے جبکہ یہ اقدامات عارضی ہیں اور حکام نئے کووڈ ڈیٹا کا جائزہ بھی لیں گے۔اٹلی نے بھی چین سے آنیوالے مسافروں کیلئے ٹیسٹ لازمی قرار دیا ہے ، اس حوالے سے اطالوی وزیر صحت کا کہنا ہے کہ چین سے آنے والے تمام مسافروں کو اینٹی جن سواب اور وائرس سیکوئنسنگ کرانی ہوگی ، آبادی کو وائرس سے بچانے کے لیے کورونا ویریئنٹس کی نگرانی اور جانچ کا یہ اقدام ضروری ہے۔بھارت ، جاپان ،ملا ئیشیا، تائیوان پہلے ہی غیر ملکی مسافروں کے لیے کورونا کی نئی پابندیاں لگا چکا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز عالمی ادارہ صحت نے چین سے کورونا وائرس کے حوالے سے اعداوشمار پر مبنی معلومات کے تبادلے پر زور دیا تھا ۔گذشتہ ہفتوں میں چین نے اپنی وبا پالیسی کو تبدیل کر کے قرنطینہ پابندیاں ختم کر دی تھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں