پاکستان کوٹھیک کرنے کیلئے فواج کو آئینی حدود میں رہنا ہوگا، محمود خان اچکزئی

کوئٹہ (انتخاب نیوز) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے ٹوئٹر میں جاری کردہ بیا ن میں کہا کہ پاکستان کے موجودہ حالات میں عام انتخابات پتہ نہیں کوئی اچھا نتیجہ دے سکیں گی یا نہیں لیکن میری تجویز ہے کہ ججز، جرنیل، صحافی، دانشور، سیاستدان سب پر مشتمل ایگ گول میز کانفرنس بلائی جائیں جس پاکستان کے چلانے کا طریقہ کار طے کیا جائے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ مسئلہ یہ پیش آیا کہ یہاں کی اکثر جماعتوں نے متحدہ ہندوستان کی آزادی کیلئے جدوجہد کی تھی اور تقسیم همد کی مخالفت کی تھی۔ پاکستان بننے کے بعد اس ملک کو سیاسی لوگوں نے چلانا تھا۔انھو ں نے مزید کہا کہ جو کہ جمعیت علماء اسلام، جماعت اسلامی، باچا خان کی جماعت ، ہماری جماعت اور باقی جماعتوں لوگ تھے لیکن بد قسمتی سے ان سب پر کراس کا نشان لگا دیا گیا کہ انھوں نے تو پاکستان کے بننے کی مخالفت کی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بننے کے بعد محمد علی جناح صاحب نے دو باتیں کی تھی۔ ایک یہ کہ مجھے کرم خوردہ (worm eaten) پاکستان ملا ہے اور دوسری بات انھوں نے یہ کہی تھی کہ میرے جیب میں پڑے سکے سارے کوٹے سکے ہیں۔ محمود خان اچکزئی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان بننے کے بعد سیاسی لوگوں کا راستہ روکنے کیلئے سرداروں، خانوں، چوہدریوں وغیرہ سے ملک کو چلایا گیا۔ اس طرح ہم نے معاشرے میں کرپشن inject کردی اور نتیجہ یہ نکلا کہ ہم ہر چڑھتے سورج کے پجاری بن گئے۔انھوں نے کہا کہ ملک بھر میں ایسے ever green خاندان موجود ہے جو کہ انگریز سے لے کر شہباز شریف کی حکومت تک ہر حکومت کا حصہ رہے ہیں۔ یہ کیا بلا ہے جو بھٹو کو پھانسی دینے والے ضیاءالحق کے حکومت میں بھی تھے اور بھٹو کی بیٹی کے حکومت میں بھی تھے؟ ان سب پر پابندی لگنی چاہئے۔ محمود خان اچکزئی نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ جب بھی پاکستان میں کوئی اچھی حکومت بنتی ہے تو اس کا سب سے پہلا وظیفہ یہ ہونا چاہئے کہ جن ججز نے مارشلا کے ادوار میں جمہوریت کی خاطر اپنی نوکریاں قربان کردی ان سب کو (heroes of Democracy) قرار دیا جائے۔انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں جمہوریت کیلئے جن لوگوں نے کوڑے کھائیں، جیلیں کاٹیں اور تاریک راہوں میں مارے گئے ان سب کو ہم بھولا دیتے ہیں۔ ہمیں ان کو نہیں بھولنا چاہیے۔ یہ ہمارے ہیروز ہیں۔انھوں نے افواج پاکستان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایجنسیاں اقوام کی آنکھیں ہوتی ہے اور فوج ملک کا دفاع کرتی ہے۔ یہ ان کی ڈیوٹی ہے۔ ان کو کسی نے زور زبردستی نہیں بھیجا۔ دنیا کی فوجیں جس طرح گزارہ کرتی ہیں ہماری افواج کو بھی وہ سیکھنا ہوگا۔پاکستان کو اگر کسی نے ٹھیک کرنا ہے تو اس کا الف یہ ہے کہ افواج پاکستان کو آئین پاکستان کے متعین کردہ حدود میں رہنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جو تماشہ چل رہا ہے یہ بہت پہلے سوویت یونین میں ناکام ہوچکا ہے۔ وہاں بھی کچھ بننے کیلئے KGB کے پائپ سے گزرنا پڑتا تھا البتہ وہاں پھر بھی صلاحیت والے لوگ آتے تھے اور یہاں بس وفاداری شرط ہے۔ہمارا خطہ اس وقت دنیا کے مست سانڈوں کے توجہ کا مرکز ہے۔ کابل سے امریکہ کے جاننے کے بعد ہم نے پریس کانفرنس کی کہ یہ پاکستان، ایران اور طالب کے عقل کا امتحان ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں