جعلی لوکل سر ٹیفکیٹ و ڈومیسائل کے ذریعے دالبندین کے مقامی تعلیم یافتہ نوجوانوں کی حق تلفی کی جارہی ہے، بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی

چاغی (انتخاب نیوز) بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی اور ضلع چاغی کے اسٹوڈنٹس کی طرف سے جعلی لوکل سرٹیفکیٹ و ڈومیسائل کے ذریعے علاقے کے نوجوانوں کے حق تلفی کے خلاف دالبندین پریس کلب کے سامنے کیے تو سخت احتجاج کے ساتھ ساتھ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا ئیں گے بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی بولان میڈیکل کالج کوئٹہ کے رہنما بے نظیر زمان ضلع چاغی کے اسٹوڈنٹس حفیظ بلوچ افتخار احمد سلطان علی منیر احمد اسرار احمد عاصم علی مہر اللہ اور دیگر نے دالبندین پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ضلع چاغی کا شمار پاکستان کے پسماندہ ترین علاقوں میں سے ایک ہے جہاں پر تعلیم صحت پانی سمیت زندگی کی تمام سہولیات کا فقدان ہے پسماندگی کے ساتھ ساتھ ضلع چاغی میں جعلی لوکل سرٹیفکیٹ و جعلی ڈومیسائل کے ذریعے علاقے کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کی حق تلفی کی جاتی ہے ہمارے علاقے کے نوجوانوں کی جگہ پر دوسرے اضلاع کے لوگوں کو لا کر کھپایا جاتاہے بھاری بھر رقوم کے عیوض لوکل سرٹیفکیٹ بنائے جاتے ہیں اس طرح کے ناانصافیوں کے خلاف ہمیں مل کر جدوجہد کرنا ہوگا کیونکہ آج ہمارے پروفیشنل سیٹوں پر اسلام آباد لاہور اور ملک کے دیگر علاقوں کے لوگ ہمارے ڈسٹرکٹ کے پوسٹوں پر پڑھ رہے ہیں اور ہم اس بارے خاموش ہے ضلع چاغی کے ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کے چودہ سیٹیں ہیں ایچ ای سی اور بی ایم سی کی طرف سے جو ہر سال اناونس ہوتے ہیں مگر انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہر سال ان چودہ سیٹوں پر ڈاکٹر بن کر آتے ہیں اس کے باوجود ضلع چاغی کو کوئی فائدہ نہیں مل رہا ہے کیونکہ ان سیٹوں پر اکثر باہر کے لوگ آکر لوکل بناتے ہیں اور علاقے کے مستحق لوگوں کو ان سے محروم کر دیتے ہیں سیندک پروجیکٹ کے نام سے ایک ایک سکالر شپ کا اعلان ہوا تھا جس میں ضلع چاغی کے آٹھ سیٹ تھے جنکا آج تک کوئی پتہ نہیں چل سکا ان تمام تر معاملات کا ذمہ دار یہاں کے نااہل لوکل کمیٹی کرپٹ نادرا آفیسرز اور علاقے کے کچھ بے باشعور لوگ ہیں جو دوسروں کا شناختی کارڈ شناختی کارڈز بناتے ہیں انہی کرپٹ لوگوں کی وجہ سے ہمارے ضلع کے آبادی کے لحاظ سے چار گنا زیادہ لوکل بن چکے ہیں 2017 کے مردم شماری کے مطابق ڈھائی لاکھ ابادی ہے مگر نو لاکھ لوکل بن چکے ہیں جو کہ انتہائی شرمناک ہے انہی پانچ سال کے دوران لوکل کمیٹی اور کرپٹ آفیسران بے پناہ رشوت لیتے ہوئے مہاجرین کے ساتھ ساتھ جو باہر سے لوگ آتے ہیں یا ٹھیکیداری کرنے آئے ہیں تو انہیں خوشی خوشی لوکل بناکر دیتے ہیں موجودہ نااہل لوکل کمیٹی کو جلد سے جلد ختم کرکے اسٹوڈنٹس کے مسائل کو مدنظر رکھ کر نیا لوکل کمیٹی بنائی جائے جس میں تعلیم یافتہ لوگوں اور اسٹوڈنٹس کو بھی نمائندگی دی جائے اور ہر چھ ماہ بعد جتنے لوکل بنتے ہیں ان کا لسٹ بنا کر علاقے کے لوگوں کو دکھایا جائے ایک گرینڈ کمیٹی بنایا جاے تاکہ وہ تحقیقات کریں کہ آبادی سے چار گنا زیادہ لوکل کیسے بنے انکی چان بین کی جائے اور ملوث زمہ داران کے خلاف کاروائی کی جائے ان کا کہنا تھا کہ تیس دسمبر کو ہونے والے میڈیکل سیٹوں کے متعلق ڈی سی آفس میں منعقدہ اجلاس میں لوکل کمیٹی کے ممبران سے کسی ایک نے بھی شرکتِ نہیں کی جب اس دوران ہم نے تین لوگوں کے لوکل پر اعتراض کیا کہ انکے لوکل پر والد کا نام کچھ اور اور شناختی کارڈ پر کچھ اور نام لکھا تھا مگر اسکے باوجود کوئی شنوائی نہیں ہوئی اگر لوکل کمیٹی کو شعور یا سوچ ہوتا تو ایک فیمیل ڈسٹرکٹ قلات سے اپنا لوکل کینسل کرکے اپنا لوکل ڈسٹرکٹ چاغی سے نہیں بناتا اور میڈیکل کے سیٹ پر ہمارے علاقے کے نوجوانوں کی حق تلفی نہیں ہوتی ہمارے علاقے کے لوگ کویٹہ میں جاکر انٹری ٹیسٹ کیلئے خوار ہو کر ٹیسٹ کی تیاری کرکے یہ خواب دیکھتے ہیں کہ ہم انجینئر یا ڈاکٹر بن کر اپنے لوگوں کی خدمت کریں گے مگر نااہل لوگوں کی وجہ سے انکے خوابوں کا چکنا چور کو جاتاہے ان کا کہنا تھا کہ اگر ہمارے مطالبات پر کوئی شنوائی نہیں ہوئی تو تمام اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے ساتھ مل کر سخت احتجاج کریں گے اور بلوچستان ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں