امن و امان کسی بھی شہر کی سیاسی، معاشی اور تعلیمی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے،آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی

جمعیت علماء اسلام کے رکن صوبائی اسمبلی میر یونس عزیز زہری نے کہا ہے کہ خضدار میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے قانون نافذ کرنے والے اداروں تمام اسٹیک ہولڈرز سمیت ہرطبقے سے تعلق رکھنے والے شخص کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، کیونکہ عوام نے ماضی میں جانی مالی نقصانت اٹھائے ہیں اب مزید بد امنی اور اس طرح کے واقعات کے متحمل نہیں ہو سکتے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام خضدار پریس کلب میں امن کانفرنس کے شرکاء سے اظہار خیال کرتے ہوئے کیا، کانفرنس کی صدارت آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی کے صدر ایڈوکیٹ عبدالحمید بلوچ نے کی کانفرنس سے مولانا عنایت اللہ رودینی، مولانا محمد اسحاق شاہوانی، عبدالنبی بلوچ، ٹکری بشیر احمد جتک، حیدر زمان بلوچ، مولانا محمد صدیق مینگل، عبدالوہاب غلامانی، آغا سمیع شاہ، ڈاکٹر عمران میروانی سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا مقررین نے کہا کہ امن و امان کسی بھی شہر کی سیاسی، معاشی اور تعلیمی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے، جہاں سیکورٹی خدشات درپیش ہوں وہاں تاجر پیشہ افراد خود کو محفوظ سمجھتے ہیں اور نہ ہی کوئی باہر کا سرمایہ لگانے کا رسک لے سکتا ہے۔ بد امنی سے ترقی کا پہیہ بھی رک جاتا ہے جہاں امن قائم نہیں ہو گی لوگ نقل مکانی کرینگے ماضی قریب میں خضدار میں ایسا ہی ہوا جب یہاں بد امنی عروج پر تھی لوگ بڑی تعداد میں یہاں سے ہجرت پر مجبور ہوئے، روزانہ کشت خون کے واقعات ہو رہے تھے، اغوا برائے تاوان روز کا معمول بن چکا تھا، قومی شاہراہ پر سفر کسی خطرے سے خالی نہیں تھا بڑی قربانیوں کے بعد خضدار میں امن بحال ہوا جس سے شہریوں نے سکھ کا سانس لیا، کاروباری سرگرمیاں شروع ہو ئیں، تجارتی سرگرمیاں وسعت اختیار کر گئیں، مگر افسوس چند سالوں بعد اب دوبارہ خضدار بد امنی کی لپیٹ میں ہے شہر میں بد امنی کی متعدد واقعا ت رونما ہوئے، قومی شاہراہ پر روڈ ڈکیتی، گاڑیوں کے چھیننے کی وارداتیں معمول بن گئی ہیں، شہر میں اسٹریٹ کرائمز میں اضافہ ہوا ہے، خضدار سمیت مختلف تحصیلوں میں تاجروں، زمینداروں و کاروباری افراد سے بھتہ لینے کی شکایتیں موصول ہورہی ہیں جس سے عوام اور تاجر برادری خوف کا شکار ہیں سرمایہ کار شہر سے اپنے ہاتھ کھینچ رہے ہیں جو کسی المیہ سے کم نہیں اس لئے خضدار کی سیاسی جماعتیں اور عوامی نمائندے یہ سمجھتے ہیں کہ امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لئے تمام اسٹیک ہولڈر اپنا کردار ادا کریں۔ سب سے پہلے خضدار سے اے ایریا اور بی ایریا کی تفریق ختم کی جائے تاکہ جہاں بھی امن و امان کا مسئلہ ہو پورے ضلع میں پولیس اور لیویز مشترکہ طور پر کارروائی کرسکیں اسلحہ بردار و جرائم پیشہ عناصر کی محفوظ ٹھکانوں کا خاتمہ کرکے ان کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے، پولیس کی نفری میں علاقے کی بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر اضافہ کیا جائے، خضدار سے جن پولیس افسران و اہلکاروں کی خدمات گوادر پولیس کے حوالے کیئے گئے ہیں انہیں فورا واپس بلایا جائے اور ان سے امن کی بحالی کا کام لیا جائے، خضدار کی تاجروں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ پر امن ماحول میں اپنا کاروبار جاری رکھ سکیں۔ امن کانفرنس میں مختلف قرار دادوں کے زریعہ مطالبہ کیا گیا کہ کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر روڈ ڈکیتی اور گاڑیاں چھیننے کے واقعات کو کنٹرول کرکے قومی شاہراہ کو ٹرانسپورٹروں اور مسافروں کے لئے مکمل محفوظ بنایا جائے، مقررین نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ امن و امان خراب کرنے والی جو بھی قوتیں ہیں ہم سب سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ شہر کے امن کو خراب نہ کریں لوگوں کو امن سے جینے دیں خضدار ہم سب کا مشترکہ گھر ہے یہاں امن قائم ہو گی تو ہم سب سکھ کے ساتھ رہ سکیں گے۔ امن کانفرنس کا اختتام خضدار میں امن کی بحالی کے لئے کی گئی دعا سے ختم ہوئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں