ترکی نے حماس قیادت پر اپنی سرزمین تنگ کرنا شروع کر دی،اسرائیلی اخبار

تل ابیب (مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیلی اخبار نے دعوی کہا ہے کہ ترکی نے فلسطینی تحریک حماس کی قیادت پر اپنی سرزمین میں پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ ترکی نے حماس قیادت کی نقل وحرکت کو محدود کرنا شروع کر دیا۔ یہ پیش رفت اسرائیل کے ساتھ ترکی کے حالیہ تعلقات کی بہتری اور دونوں ملکوں کے در میان سفیروں کے تبادلہ کا نتیجہ کے طور پر سامنے آئی ہے۔اسرائیلی اخبار نے مزید کہا ترکی کی جانب سے حماس کے تمام ارکان کو اپنی سرزمین سے بے دخل کرنے کے پرانے اسرائیلی مطالبے کا جواب دینے میں ناکامی کے باوجود ترک انٹیلی جنس نے حماس کے رہنماں کی نقل وحرکت کو محدود کرنا شروع کر دیا ہے۔اخبارکی رپورٹ میں اشارہ کیا گیا کہ ترکی کے اقدامات خاص طور پر حماس کے سیاسی بیورو کے نائب سربراہ صالح العاروری کو متاثر کرتے ہیں، جن پر اسرائیل مغربی کنارے میں مسلح کارروائیوں کی مالی معاونت کا الزام لگاتا ہے۔اخبار نے مزید کہا کہ ترکی اس وقت حماس کے رہنماں کی اپنی سرزمین میں قیام کی کوششوں کو محدود کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ ترکی کی سکیورٹی سروسز ترکی کی سرزمین میں حماس کے کارکنوں کو حاصل نقل وحرکت اور کام کی آزادی کو کم کرنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ترکی کی پالیسی حماس کے لئے دور رہ کر مغربی کنارے کی صورت حال کو کشیدہ کرنے میں مشکلات پیدا کرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں