عمران خان کو پارٹی عہدے سے ہٹانے کا کیس، فل بنچ بنانے کی سفارش
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو عہدے سے ہٹانے کے معاملے پرعدالت نے کیس کی مزید سماعت کیلئے فل بنچ بنانے کی سفارش کردی۔ لاہورہائی کورٹ میں سابق وزیراعظم عمران خان کو پارٹی کی سربراہی کے عہدے سے ہٹانے کیلئے درخواست کی سماعت ہوئی۔عمران خان کی جانب سے ان کے وکیل بیرسٹرعلی ظفرنے دلائل دیئے جبکہ الیکشن کمیشن کے وکیل نے جواب داخل کرنے کیلئے مہلت طلب کرلی۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نصراحمد نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پراعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی الیکشن کمیشن کے خلاف اسی نوعیت کی درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرسماعت ہے۔جسٹس جواد حسن نے کہا کہ درخواست گزار پنجاب کا رہنے والا ہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ گذشتہ سماعت پر یہ معاملہ عدالت کے سامنے پیش ہوا تھا آپ یہاں موجود نہیں تھے۔ وکیل عمران خان نے دلائل دیئے کہ عدالت کے سامنے اپنی درخواست میں تمام حقائق واضح کئے۔ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس نے اسی کیس میں اپنا جواب جمع کرادیا، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل رائے شاہد سلیم خان نے ایڈووکیٹ جنرل کا جواب جمع کرایا۔عدالت نے اسی کیس میں ایڈووکیٹ جنرل کو عدالتی معاونت کیلئے طلب کیا ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کا جواب 15صفحات پر مشتمل ہے جس میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن نہ تو عدالت ہے نہ ہی اس کو کسی کونااہل کرنے کا اختیار ہے۔ الیکشن کمیشن غیرقانونی اختیار استعمال کیا۔جسٹس جواد حسن نے کیس کی سماعت کیلئے فل بنچ بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کیس مزید سماعت کیلئے چیف جسٹس کوبھجوا دیا۔عدالت نے سماعت 17جنوری تک ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ اسی نوعیت کی دو درخواستیں چیف جسٹس کی سربراہی میں فل بنچ کے پاس تھیں جنہیں واپس لیاگیا۔ ان درخواستوں کا فیصلہ دیکھا جانا ضروری ہے۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل رائے شاہد سلیم خان نے کہا فل بنچ کے علم میں تھا کہ یہ اسی نوعیت کی درخواست سنگل بنچ کے پاس ہے۔ فل بنچ نے درخواستیں سنگل بنچ کے پاس ہونے کی بنا پر واپس کیں۔


