سیاسی انجینئرنگ کے ذریعے راتوں رات سیاسی مسافروں کی مصنوعی جماعت ملکی مفاد میں نہیں، نیشنل پارٹی

کوئٹہ (انتخاب نیوز) نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر میر کبیر احمد محمد شہی اورمرکزی خواتین سیکرٹری یاسمین لہڑی نے کہاہے کہ سیاسی انجینئرنگ جیسے منفی عمل نے ملک کو شدید بحرانوں کا شکار کردیا افسوس کہ پھر سے سیاسی مسافروں کی پوسٹنگ ٹرانسفر کی جارہی ہے جو سیاسی معاشی سماجی عدم استحکام کے شکار ملک میں مذید تنزلی کا باعث بنے گی۔ الیکشن میں حقیقی سیاسی جماعتوں سے اتحاد کو ترجیح دے گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ میں تنظیمی سیاسی و انتخابی اور بلوچستان کی صورتحال مباحثے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا۔اس موقع پر نیشنل پارٹی کے مرکزی ریسرچ اینڈ ایڈوکیسی سیکرٹری آغا گل ممبران مرکزی کمیٹی عبدالخالق بلوچ چیرمین محراب بلوچ نیاز بلوچ صوبائی ترجمان علی احمد لانگو صوبائی یوتھ سیکرٹری نعیم بنگلزئی ممبران ورکنگ کمیٹی صدیق کھیتران انیل غوری، سینئر رہنما مختیار چھلگری بی ایس او پجار کے جوائنٹ سیکرٹری ابرار برکت بلوچ صوبائی صدر بابل ملک بلوچ ڈاکٹر طارق بلوچ سمیت دیگر موجود تھے۔مباحثے میں تنظیم کے حوالے سے شرکا نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم جس طرع سیاسی جماعت کی مضبوطی و پروان میں کردار ادا کرتا ہے اسی طرع تنظیم سیاسی کارکنوں کی تربیت کے ساتھ تخلیقی صلاحیتوں میں اضافہ اور ان میں سنجیدگی بردباری ڈسپلن کا فروغ کا باعث بنتا ہے۔مضبوط تنظیم و متحرک سیاسی کارکن ہی عوام سے سیاسی لاتعلقی کو ختم کرکے سیاسی عمل میں حصہ بنانے میں کردار ادا کرتا ہے۔اس لیے پارٹی کی زیلی تنظیموں و کارکنان کا واضح ہدف عوام کو ساتھ جوڑنے میں ہو۔تب نیشنل پارٹی عوامی طور پر مستحکم جماعت ہوگی۔ملک کی سیاسی و انتخابی صورتحال کو بحث میں لاتے ہوئے کہاگیا کہ ملک کے استحکام کا واحد راستہ جمہوریت کے فروغ اور آئین و قانون کی بالادستی سے ممکن ہے۔سیاسی عمل میں مذید مداخلت کو ملک کے لیے شدید خطرناک قرار دیا۔راتوں رات سیاسی مسافروں کو اکھٹا کرنا اور مصنوعی جماعت بنانا اور سیاسی انجینئرنگ کے ذریعے پوسٹنگ و ٹرانسفر کرنا کسی طرع بھی ملک کے مفاد میں نہیں۔بلوچستان کے سیاسی مسافروں کو معلوم ہے کہ وہ ٹھپہ کے بغیر کامیاب نہیں ہونگے۔رہنماوں نے کہا کہ انتخابات میں انتخابی اتحاد جمہوریت کا تسلسل ہے۔نیشنل پارٹی ہم خیال و حقیقی جمہوری جماعتوں کے ساتھ اتحاد کو ترجیح دے گی۔تاکہ سیاسی جمہوری عمل میں تقویت ہو۔مردم شماری کو آئین و قانون کے مطابق ہر دس سال بعد ہونا چائیے گزشتہ مردم شماری 2017 میں ہوچکی ہے اب نءمردم شماری غیر قانونی ہے اور اس کو مسلط کیا جارہا پے۔نیشنل پارٹی کے دوستوں نے سیلاب متاثرین کے حوالے سے بحث کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب متاثرین اب تک بےیار ومدگار پڑے ہیں۔ریسکو ریلیف اور رییبلٹشن کے عمل میں کمزوری سے شدید سردی میں سیلاب متاثرین کی حالت مذید تشویشناک ہوگئی ہیں۔سیلاب متاثرین کو فوری طور پر محفوظ کرنے کی ضرورت ہے۔نیشنل پارٹی کے دوستوں نے قومی وسائل پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے وسائل کو روز اول سے اسی طرع غضب کرنے کی حکمت اپنائی گئی ہیں۔سوئی گیس بلوچستان سے نکلی لیکن سوئی میں نہ پانی اور نہ معیاری سکول و ہسپتال اور بلوچستان کے 70 فیصد علاقوں میں گیس میسر نہیں۔ سیندک پروجیکٹ ضلع چاغی میں واقع ہے جس کو بے دردی سے لوٹا گیا لیکن بلوچستان تو دور کی بات چاغی تمام تر سہولیات سے محروم ہیں۔ریکوڈک پر جس طرع غیر قانونی و غیر جمہوری عمل کرتے ہوئے متنازعہ قانون سازی کی گءوہ تاریخ کا بدترین اقدام ہے۔وفاق کی جمہوری جماعتوں اور بلوچستان کی قوم پرست ومذہبی جماعتوں نے قومیتوں کی حقوق پر شب خون مارا اور قومی اکائیوں کی اختیارات کو وفاق کے تصرف میں دیا۔جوکہ افسوسناک ہے۔رہنماوں نے گودار کی صورت حال پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک کو گیم چینجر کہا جاتا ہے لیکن سوئی گیس سیندک اور ریکوڈک کی طرع گودار جو سی پیک کا محور ہے وہاں بھی تمام بنیادی ضروریات و سہولیات نہیں۔سمندری حیات کی بدترین نسل کشی کی جارہی ہے۔ماہی گیروں کو سمندر تک رسائی نہیں دی جاتی۔جس سے وہ نان شبینہ کا محتاج ہوگئے ہیں۔عوام کے احتجاج کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور رہنماوں کو پابند سلاسل کیا گیا ہے۔جو کہ افسوسناک ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں