محکمہ فشریز کی ممنوعہ جالوں پر پابندی، ٹرالرز کو بلوچستان کی سمندری حدود سے دور رہنے کی ہدایت
وندر (انتخاب نیوز) چھوٹے ماہی گیروں کی جانب سے کی گئی شکایات پر محکمہ فشریز نے فشریز آرڈینس پر سختی سے عملدرآمد کرانے کے لیے وائر نیٹ اور گجہ والی ٹرالرز کو بلوچستان کے سمندری حدود سے دور رہنے کا سختی سے نوٹس جاری کردیا۔ بلوچستان کے ساحلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے چھوٹے ماہی گیروں کی جانب سے ان کے ذریعہ معاش کی عدم تحفظ اور ان کی ماہی گیری کی جالوں کو نقصان پہنچانے کے خلاف ہونے والے احتجاجوں کے باعث محکمہ فشریز بلوچستان نے بلوچستان سی فشریز آرڈینس پر سختی سے عملدرآمد کرانے کے لیے ضلع لسبیلہ کے ساحلی علاقے ڈام بندر سے تعلق رکھنے والے ان ماہی گیروں کو سختی سے نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بلوچستان کے سمندری حدود میں ممنوعہ جالوں وائر نیٹ کاڈو جال بھولو گجہ سمیت دیگر ممنوعہ جالوں سے بلوچستان کے سمندری حدود میں ماہی گیری کرنے سے اجتناب برتنے کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں لینڈنگ سائٹ پر غیر قانونی جالوں سے شکار کی گئی مچھلیاں بھی اتارنے سے اجتناب برتیں خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سختی سے قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی فشریز بلوچستان کے مطابق سندھ کے ماہی گیروں کو بھی سختی سے تنبیہ کیا گیا ہے کہ وہ بلوچستان کے سمندری حدود میں داخل ہوکر ممنوعہ جالوں وائر نیٹ اور گجہ نیٹ سے ماہی گیری کرنے سے باز آجائیں بلوچستان فشریز کے حکام نے کہا ہے کہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے چھوٹے ماہی گیروں کے ذریعہ معاش کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے اور بلوچستان کے سمندری حیات کی نسل کشی کرنے والوں کو کسی بھی صورت میں بلوچستان کی سمندری حدود داخل ہونے اور ممنوعہ جالوں سے ماہی گیری کی اجازت نہیں دی جائے گی اور بلوچستان سی فشریز آرڈینس پر سختی سے عملدرآمد کرانے کے لیے شب و روز پیٹرولنگ کا عمل شروع کیا جائے گا۔


