تربت یونیورسٹی کی فیسوں میں بے تحاشے اضافے کو مسترد کرتے ہیں، بی ایس او پجار

کوئٹہ (انتخاب نیوز) تربت یونیورسٹی کے سیمسٹر، ہاسٹل، امتحانی و دیگر فیسوں میں بے تحاشہ اضافے کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (پجار) کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ تربت یونیورسٹی کے فیسوں میں بے تحاشہ اضافے کو تعلیم دشمنی سمجھتے ہیں۔ تربت یونیورسٹی میں ایک درجن سے زائد اپنے من پسند افراد کو دیگر تعلیمی اداروں سے درآمد کیا گیا یا پر انتہائی جونیئر افسران کو بڑے بڑے انتظامیہ پوسٹوں کی ایڈیشنل چارج سونپ دی گئی ہیں جن کا محض کرپشن اقربا پروری منظور نظر افراد کو نوازنا اور اپنے آقاؤں کے خوشنودی حاصل کرنے کیلئے تعلیمی ادارے میں ایسی پالیساں مرتب کی گئی ہیں جس کے وجہ سے طلباء آج کلاسز کے بجائے احتجاجی دھرنے پر بیٹھے ہیں، یونیورسٹی میں پیدا شدہ بحران کے لیے اس کے ذمہ داروں کا حساب کرنا ہی تعلیمی ادارے کو بحرانی کیفیت سے نکال سکتا ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ گزشتہ برس جب وہ تعلیمی ادارے میں اقربا پروری کرپشن اور ایڈیشنل چارج دینے کا گورک دھندا شروع ہوا تو تنظیمی ذمہ داران نے نہ صرف کرپشن اقربا پروری کی نشاندہی کی بلکہ یہ بھی دینا کے سامنے آشکار کیا کہ کس کے ایما پر یہ گورک دھندا شروع کیا گیا ہے اور آج بھی وہی افراد طلباء کو خوفزدہ کرکے ان کے جائز حقوق پر سمجھوتے کیلئے مجبور کر رہے ہیں جبکہ پرو وائس چانسلر اور رجسٹرار جو اس وقت اس پورے کہانی کے اہم کردار ہے ان کو متنبہ کرتے ہیں کہ اگر طلباء کے پرامن احتجاج پر سابقہ منسٹر کے ایما پر اگر طاقت کا استعمال ہوا تو نتائج بھیانک ہونگے۔ ترجمان نے کہا کہ فنانس اور پلانگ کے لیے یونیورسٹی میں کمیٹی موجود ہے لیکن بدقسمتی سے یہ فیصلہ کرپٹ وزیروں کے بیٹھکوں میں ہوتے ہیں اور زمہ داران کو عمل درآمد کرنے کیلئے وٹسپ پر اطلاع دی جاتی ہے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام درآمد افیسران کو ان کے اپنے تعلیمی اداروں میں بھیج دیا جائے اور سارے ایڈیشنل چارجز کو واپس لیکر ایچ ایم سی کے رولز کے مطابق مشتہر کیا جائے تاکہ قابل اور تجربے کار آفیسران تعلیمی ادارے کو مالی و انتظامیہ بحران سے نکالا جاسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں