آئی ایم ایف کے ملکی قرضوں میں حصہ دار نہیں، الاٹمنٹ کے نام پر پشتونوں کے وسائل لوٹے جارہے ہیں، پشتونخوا میپ
کوئٹہ (انتخاب نیوز) ہم پشتون بحیثیت قوم آئی ایم ایف کی ملکی قرضوں میں حصہ دار نہیں نہ ان پیسوں سے ہمارے علاقوں میں ایک فٹ موٹروے بنی ہے تو ہم ناکردہ گناہوں کی سزا مہنگائی، ٹیکسز اور بیروزگاری کی شکل میں کیوں کاٹے؟ ماڈرن لائیو سٹاک اور ماڈرن ایگریکلچر کے ذریعے ہم اپنے آنے والی نسلوں کے مستقبل سنور سکتے ہیں مگر بدقسمتی کی وجہ سے آج ہم اپنی قومی وسائل پر صرف مزدور رہ کر خوش ہوجاتے ہیں جبکہ الاٹمنٹ کے نام پر غیر لوگ آکر ہمارے اربوں ڈالر کی مالیت کے قومی وسائل لوٹ رہے ہیں، قومی سیاسی جدوجھد کے ذریعے قومی شعور کے ذریعے اتفاق اتحاد پاکر ہی ہم کامیاب ہوسکے گے ان خیالات کا اظہار پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری نواب محمد ایاز خان جوگیزئی، مرکزی سیکرٹری ڈاکٹر حامد خان اچکزئی، صوبائی سیکرٹری کبیر افغان، صوبائی رابطہ سیکرٹری گل خلجی، غنی تلوال، اسلم خلجی نے کوئٹہ شار اول اور شار دوم کے علاقائی کانفرنسوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جبکہ علاقائی یونٹوں سے حلف صوبائی لیبر سیکرٹری حبیب الرحمن بازئی اور صوبائی ڈپٹی سیکرٹری نظام عسکر نے حلف لیا۔انہوں نے کہا کہ لطیف لالا ایک پشتون سیاسی رہنما، دانشور، ادیب اور وکیل تھے جنہوں نے اپنی زندگی قومی سیاست کیلئے گزاری مگر بدقسمتی سے وہ 80 سال کی عمر میں قتل کیے گئے۔ حالانکہ ایسے سیاسی کارکن کی ضیاع صرف خاندان، قبیلہ کی نہیں بلکہ پوری قوم کی ضیاع ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ آج بھی ہم ایک مسافر اور مزدور لاٹ بن کر ابھرے ہوئے ہیں کراچی کا ساٹھ فیصد کچرہ ہمارے بچے اٹھاتے ہیں یہ ایسے حالات میں ہورہا ہے جب ہم پشتونخوا وطن میں اربوں کھربوں ڈالرز مالیت کے مالک ہوتے ہوئے مزدور بنائے گئے ہیں۔ کیونکہ آج بھی ہمارے وسائل ہمارے اختیار میں نہیں۔ اکیسویں صدی قوموں کی آزادی، برابری، ترقی کی صدی کہلائی جاتی ہیں مگر پشتون ایک شاندار ماضی کے مالک ہوتے ہوئے بھی آج غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ہم نے زئی و خیلی سے بڑھ کر قومی تحریک میں شامل ہوکر اپنی قومی جدوجھد کو دوام دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشتون قومی تحریک کے ہر اول دستہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی خان عبد الصمد خان اچکزئی کی وہ قومی سیاسی پارٹی ہے جو اپنی قومی شناخت، وسائل پر اختیار، ملک میں آئین کی بالادستی، پارلیمنٹ کی خودمختاری، جمہور کی حکمرانی اور پاکستان کو پشتون اور دیگر اقوام کی حقیقی جمہوری فیڈریشن بنانے پر یقین رکھتے ہوئے اپنی قومی سیاسی جدوجھد کرتی چلی آرہی ہے۔ لہذا پارٹی کارکن اپنی قومی سیاسی جدوجھد کو دوام دیتے ہوئے قومی شعور کو اپنی عوام میں اجاگر کرنے کیلئے تنظیمی ساخت، ڈسپلن کو اپناکر اپنی عوام کو متحد کرنے کے لیے دن رات محنت کرے۔انہوں نے کہا کہ قومی سیاسی واک و اختیار، زبان، تاریخ اور اپنے قومی سوال کے بغیر ہم غلامی دور کے دربدری سے چھٹکارا نہیں پاسکتے اور اپنی قوم کو شعوری طور پر منظم کرنے کیلئے آپ ہی نے ہمت کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ آج بھی اگر ہم اپنی وسائل جو کہ ہمارے آباؤ اجداد نے سروں کی قربانیوں کے ذریعے سنبھالے ہوئے ہیں کو اگر ہم ترقی یافتہ دنیا کے جدید سائنسی تقاضوں کے ذریعے استعمال میں لاکر ہم دنیا اور خطے کے ترقی یافتہ قوم بن سکتے ہیں اور جو قوتیں ہماری قومی تحریک کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں وہ غلامانہ ذہنوں اور ذاتی مفادات لیکر کبھی بھی کامیاب نہیں ہونگے۔


