پاکستان میں اقلیت زدہ سوچ کا مقابلہ ہمیشہ ایم کیوایم نے کیا ہے، خالد مقبول صدیقی

کراچی (انتخاب نیوز) متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے لیاقت آباد ٹاؤن میں گریجویٹ فورم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے جعلی حلقہ بندیوں پر ہونے والے بلدیاتی انتخابات کا بائیکاٹ کردیا اب سڑکوں سے کراچی چلا کر دکھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی الیکشن میں شکست جمہوری نظام کو ہوئی ہے اور حکمرانوں کا لاڈلا کلب جیت گیا ہے، وقت ثابت کرے گا کہ جن ایوانوں میں ہم نہیں ان کی کوئی اوقات نہیں،اس ملک کا ایک المیہ یہ ہے کہ آپ یہاں سچ بھی پورا نہیں بول سکتے کیونکہ پاکستان میں ہمیشہ سچ سینسر ہو جاتا ہے اور دوسرا المیہ یہ کہ طاقت رکھنے والے عقل کو استعمال کرنا طاقت کی توہین سمجھتے ہیں۔ خالد مقبول نے کہا کہ ہم پاکستان کی سلامتی اور جمہوریت کے استحکام کیلئے اپنے حصّے سے زیادہ قربانی دے چکے ہیں، فیصلہ کرنے والے سوچ لیں کہ اگر اب بھی ہمیں صحیح نہیں گنا گیا تو تولنا پڑ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پورا پاکستان ہمیں چیخ چیخ کر مہاجر کہہ رہا ہے اور ہم وہ بدنصیب لوگ ہیں جو اپنی شناخت پر شرماتے ہیں جبکہ ہماری شناخت ہی ہماری اصل طاقت ہے، ہم نے اپنا قیمتی وقت اِس بحث میں گزار دیا کے ہم مہاجر ہیں یا نہیں کِسی کا انصار مدینہ کا کردار ادا نہیں کیا جبکہ ہم نے ہجرت کی تو ہندوستان پاکستان بنا، یاد رکھیے آپ کی تہذیب کے علاوہ پاکستان میں کوئی اور تہذیب موجود نہیں ہے۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ پاکستان میں اقلیت زدہ سوچ کا مقابلہ ہمیشہ ایم کیوایم نے کیا ہے، ایم کیو ایم پر الزامات لگانے والے بتائیں کہ کیا ہم سے پہلے شیر اور بکری ایک ہی گھاٹ میں پانی پی رہے تھے اگر ایسا تھا تو یہ ایم کیوایم کیسے وجود میں آگئی؟ ایم کیوایم حالات کی پیداوار ہے، مہاجروں کو ایم کیوایم نے نہیں بجتے کھمبوں نے یکجا کیا ہے، مشترکہ درپیش مشکلات اور مسائل بھی بکھرے لوگوں کو قوم بناتے ہیں ہم نے ایسا کْچھ نہیں کیا کہ ہمیں اپنی شناخت پر شرمندہ ہونا پڑے۔ انہوں نے ڈیفنس کلفٹن کے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ اِس لیئے محفوظ ہیں کے آپ کے حصّے کی گولی لیاقت آباد ناظم آباد والا کھاتا ہے۔ ہمیں قائد اعظم کا پاکستان چاہیے تھا لیکن ہمیں بھٹو کے پاکستان میں رہنا پڑ رہا ہے جاگیردارانہ جمہوریت خاندانی نظام جمہوریت پاکستان کا سب سے بڑا دْشمن ہے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ ہم نے جمہوریت سے زیادہ اِس مْلک کو بچانے کے لیئے مختلف حکومتوں کا ساتھ دیا ایم کیوایم نے ہمیشہ لوئر مڈل کلاس کو ایوان میں بھیجا شناخت ہی حقوق کا تعین کرتی ہے مسئلہ کراچی کی بد امنی کا نہیں بلکہ کراچی کے سکون کا ہے، خان صاحب جو کْچھ کہہ رہے ہیں اگر وہ سب ہم کہہ دیں تو ہماری مائیں ہمیں ڈھونڈتی پھریں، مْجھے ڈر تھا کہیں اچھا وقت نہ آجائے وہ آگیا ہے اب گلی محلے سے اپنے شہرِ کو چلائیں گے۔ اس موقع پراراکین رابطہ کمیٹی احمد سلیم صدیقی، عبدالقادر خانزادہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعل رکھنے والے اکابرین اور ماہرین کی بڑی تعداد موجود تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں