کراچی میئر ہمارا ہوگا، مینڈیٹ پر قبضہ کیا تو قبضہ چھڑانے آئیں گے، جماعت اسلامی
کراچی (انتخاب نیوز) امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ پیپلز پارٹی سے دوگنے سے بھی زیادہ ووٹ حاصل کئے، کراچی کا میئر جماعت اسلامی ہی کا بنے گا، پی پی ہمارے اور ہم اس کے مینڈیٹ کو تسلیم کریں تو بات آگے بڑھے گی۔ حافظ نعیم الرحمن نے بلدیاتی انتخابات میں دوبارہ گنتی کے نام پر جماعت اسلامی کی اکثریت کو کم کرنے کے حوالے سے ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ میں خبردار کر رہا ہوں ہمارے مینڈیٹ پر قبضہ کیا تو قبضہ چھڑانے آئیں گے، جماعت اسلامی پیار محبت سے نہیں بہلے گی، نمبر ون پارٹی ہم ہیں، میئر جماعت اسلامی کا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کا چار دن گزر جانے کے باوجود معاملہ ختم نہیں ہورہا، آر اوز کی جانب سے دھاندلی کی جارہی ہے، اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کے لیے انہیں تعینات کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈھائی سال بعد الیکشن ہوا وہ بھی چار بار ملتوی ہو کر، آخری وقت تک غیر یقینی صورتحال رکھی گئی تا کہ لوگ ووٹ نہ ڈال سکیں، پھر بھی لوگوں نے پچیس فیصد سے زائد ووٹ کاسٹ کیے، اتنی کوششوں کے بعد الیکشن جو ہوا وہ بھی مسائل کا شکار رہا، حکومت عوام کو اختیار دینا ہی نہیں چاہتی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم اپنے مینڈیٹ کو چوری نہیں ہونے دیں گے، عوام سوشل میڈیا پر ان چیزوں کو منظر عام پر لائیں، آج (جمعہ کو )نیو ایم اے جناح روڈ پر یوم تشکر کا جلسہ کیا جائے گا، امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق بھی اس میں شرکت کریں گے۔ حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ ہمارا پہلا مطالبہ یہ ہے کہ جن سیٹوں کی سماعت الیکشن کمیشن میں ہونی ہے، وہاں ووٹوں کے تھیلے بھی منگوائے جائیں جو ابھی تک آر اوز کے پاس ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ری کاﺅنٹنگ کے عمل کو روکا جائے ، دوبارہ گنتی الیکشن کمیشن کے سامنے کی جائے، ہم نے پیپلز پارٹی سے ڈبل سے بھی زیادہ ووٹ لئے ہیں، تو انکی اکثریت کیسے ہو سکتی ہے، ہم نمبر ون پارٹی ہیں اور انشا اللہ میئر جماعت اسلامی بنائے گی، پی پی ہمارے اور ہم اس کے مینڈیٹ کو تسلیم کریں تو بات آگے بڑھے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملیر ڈی آر او آفس میں ہمارے کارکنان پر گولیاں چلائی گئیں، کیماڑی کے آفس میں پی ٹی آئی کے کارکنان اور علی زیدی پر حملہ کیا گیا ، ان واقعات کی مذمت کرتے ہیں، پی ٹی آئی کے دوست پی پی کے اکسانے پر ری کاﺅنٹنگ کرارہے ہیں، یہ انکا حق ہے لیکن اس بات کا پی پی فائدہ اٹھاکر اپنے نمبر بڑھائے گی۔آر اوز کا کام تحفظ کرنا ہے وہی دھاندلی کر رہے ہیں۔ فارم گیارہ اور بارہ میں متعدد غلطیاں ہیں، مرضی کے نتائج حاصل کرنے کے لیے آر اوز کو تعینات کیا گیا۔ ڈی آر او آفسز کو پیپلز پارٹی کا اڈہ نہیں بننے دیں گے۔


