قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں ایل سیز نہ کھلنے کے معاملے پر عائشہ غوث پاشا اور محسن عزیز میں تلخ کلامی

اسلام آباد (انتخاب نیوز) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں ایل سیز نہ کھلنے کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے آگئے ،وزیر مملکت عائشہ غوث پاشا اور پی ٹی آئی کے سینیٹر محسن عزیز کے درمیان تلخ کلامی ،وزیر مملکت عائشہ غوث پاشا نے بتایا ہے کہ آئی ایم ایف کے تحفظات دور کرلیے، کوشش ہے غریب آدمی پر بوجھ نہ پڑے ،، اگر آئی ایم ایف نہ مانا تو سخت فیصلے کرنے پڑیں گے جبکہ فارما سیوٹیکل ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ ، خام مال کیلئے ایل سیز نہ کھلیں تو آئندہ ماہ ملک میں ادویات کی قلت پیدا ہو جائےگی۔ جمعرات کو سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ہوا جس میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر اسٹیٹ بینک نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ حکومت نے کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ 5 اشاریہ 5 ارب روپے کم کیا، پاکستان نے غیر ملکی ادائیگیاں بھی کی ہیں ،ملک ڈیفالٹ نہیں ہو رہا ۔بینکوں کی جانب سے ایل سیز نہ کھلنے کے معاملے پر وزیر مملکت عائشہ غوث پاشا اور سینیٹر محسن عزیز میں تلخ کلامی ہوئی ۔سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ ایل سیز نہ کھلنا ڈیفالٹ ہی ہے، ملک 75 ہزار دفعہ ڈیفالٹ ہو چکا ہے، عائشہ غوث پاشا نے کہا کہ اپوزیشن ڈیفالٹ کی باتیں کرکے لوگوں کو گمراہ کررہی ہے۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں وزیر مملکت عائشہ غوث پاشا نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے تحفظات دور کردیئے، کوشش ہے عام آدمی پر بوجھ نہ ڈالا جائے، اگر آئی ایم ایف نہ مانا تو سخت فیصلے کرنے پڑیں گے۔انہوںنے کہاکہ آئی ایم ایف کے بہت سے تحفظات دور کر دیئے گئے ہیں تمام طبقوں کو بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔فارما سیوٹیکل انڈسٹری ایسوسی ایشن کے چیئرمین ارشد محمود نے کمیٹی کو بتایا ہے کہ فارما انڈسٹری کا 100 فیصد مال امپورٹ ہوتا ہے، ایل سیز نہ کھلنے کی وجہ سے کئی کنٹینرز پورٹ پر پڑے ہیں، ایل سیز نہ کھلیں تو آئندہ ماہ ملک میں ادویات ناپید ہوجائیں گی۔ایگزم بینک حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ بینک کے آپریشنز 31 جنوری تک شروع ہوجائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں