دفاعی اخراجات کے نام پر پاکستان کو کھایا جارہا ہے، قطر سے غلاموں کو لاکر افغانستان پر مسلط کیا گیا، ایمل ولی
اسلام آباد، پشاور (انتخاب نیوز) عوامی نیشنل پارٹی خیبرپختونخوا کے صدر ایمل ولی خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج اسلام آباد کی سرزمین پر ایک تاریخی دن ہے۔ یہ سرزمین چند دہائیاں قبل بھی باچا خان کو مان لیتے تو آج جن حالات کا سامنا ہے یہ نہیں ہوتے۔ان کا کہنا تھا کہ باچا خان نے بلاتفریق سب سے پہلے انسانیت کی بات کی اور آج اکیسویں صدی میں ہمیں اس کی ضرورت ہے۔ جہاں انسانیت کی قدر ہو وہاں زندگی گزارنا آسان ہوجاتی ہے۔ آج علی وزیر کے ساتھ جو ہورہا ہے وہ انسانیت نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ برداشت عدم تشدد کی بنیاد ہے، آج کی سیاست میں برداشت ختم ہوگئی ہے۔یہ بات ہمیں باچا خان نے سکھائی ہے کہ تشدد برداشت کرو لیکن اپنے نظریئے اور موقف سے پیچھے نہ ہٹو۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ جنگی اقتصاد کا ماحول ایک دفعہ پھر گرم ہے،پختونوں کو کبھی ایک شکل تو کبھی دوسری شکل میں مروایا جارہا ہے۔ مرنے والا بھی پختون، سہولت کار بھی پختون اور مارنے والا بھی پختون ہے۔ یہ عہد کرتے ہیں کہ کسی بھی حالت میں عدم تشدد کے فلسفے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ باچا خان نے ہمیں سکھایا ہے کہ اگر ترقی کرنی ہے تو بچوں اور بچیوں دونوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا ہے۔ جب بھی پختونوں کے خلاف سازش ہوئی ہے پہلے تعلیمی اداروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ مذہب کا نام استعمال کرکے پختونوں کو تعلیم سے دور رکھا جارہا ہے۔ افغانستان میں کس قانون کے تحت بچیوں کو تعلیم سے محروم رکھا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری بدقسمتی ہے کہ یہاں جہاد بھی امریکہ سے ہوکر آتا ہے۔ غلاموں کو قطر سے لاکر افغانستان پر مسلط کردیا گیاہے۔ایمل ولی خان نے مزید کہا کہ 1970 سے لیکر آج تک پاکستان کا ہر فیصلہ امریکہ کی مرضی سے ہوتا رہا ہے۔ پاکستان میں قانون کی حکمرانی صرف کاغذوں تک محدود ہے۔ ایسے لوگ بھی پاکستان پر مسلط رہے ہیں جو آئین اور قانون کو ردی سمجھتے ہیں۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم محکوم قوموں کیلئے اے این پی اور اتحادی حکومت کا تحفہ ہے لیکن آج تک اس پر عملدرآمد نہیں ہوسکا۔ آج بھی اس آئینی ترمیم پر حملے ہورہے ہیں، بتانا چاہتے ہیں کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم پاکستان کی بقا کا ضامن ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب سے ہم نے ہوش سنبھالا ہے پاکستان اقتصادی بحران سے دوچار ہے۔ دفاعی اخراجات کے نام پر پاکستان کو کھایا جارہا ہے۔ ملک کو بچانا ہے تو دفاعی اخراجات کم کرنے ہوں گے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ مذاکرات جنرل فیض نے کئے اور شہادتیں پولیس کو اٹھانی پڑ رہی ہیں۔آج بھی ملک کی ترجیح قلم کی بجائے بندوق ہے،ترجیحات کو بدلنا ہوگا۔ دنیا میں ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارت ہوتی ہے پاکستان باروداور خودکش حملوں کی تجارت کرتا ہے۔معاشی حالات سنبھالنے ہیں تو اخراجات میں کمی لانی ہوگی۔ شاہانہ طرز زندگی کو ختم کرنا ہوگا، فوج کو کلبز کی بجائے سرحدوں پر بھیجنا ہوگا۔ایمل ولی خان نے مزید کہا کہ پارلیمان کو حقیقی معنوں میں آئین ساز اسمبلی بنانی ہوگی۔ اراکین پارلیمان آئین ساز بننے کی بجائے ٹھیکدار بن گئے ہیں۔ حکومت چلانا منتخب حکومت کا کام ہے نہ کہ سپریم کورٹ کا۔تمام اداروں کو انکے آئینی کردار تک محدود کیا جائے تب ہی ہم آگے بڑھ سکتے ہیں۔ماضی کی غلطیوں سے سیکھنا ہوگا اور اس سلسلے میں میڈیا کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا


