اوستہ محمد، دل کا دورہ پڑنے سے ایک ہفتے میں درجن سے زائد افراد جاں بحق
اوستہ محمد (انتخاب نیوز) امراض قلب میں تشویشناک اضافہ‘ گزشتہ تین ہفتوں کے دوران اوستہ محمد اور گردونواح میں کا دورہ پڑنے سے ایک درجن سے زائد صحت مند افراد اچانک موت کے منہ میں چلے گئے‘ امراض قلب مرکز کے قیام کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔رپورٹ کے مطابق امراض قلب سے اموات کی شرح میں اضافے کی وجوہات جاننے سے ماہرین امراض بھی قاصر ہیں تاہم بعض حلقوں کی جانب سے کی جانے والی قیاس آرائیوں کے مطابق کرونا وائرس پھیلنے کے بعد دل کے امراض میں اضافہ ہو گیا ہے۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس خون میں شامل ہو کر گلٹیاں بنانے کا سبب بن رہا ہے جس سے دل کے والو بند ہونے سے اچانک موت واقع ہوجاتی ہے ڈاکٹروں نے لوگوں کو اپنا طبی معائنہ کرانے بالخصوص ماہرین امراض قلب سے مکمل چیک اپ کرانے کا مشورہ دیا ہے گذشتہ ہفتوں کیدوران مقامی بینک کے سینئر منیجر عبدالحفیظ بھنگر اپنی کرسی پر بیٹھے دم توڑ گئے نیشنل پارٹی کے صوبائی رہنما غلام نبی رند اور ہیڈ ماسٹرخانپور ہائی اسکول محمد اسلم ابڑو،اوستہ محمد پریس کلب(رجسٹرڈ)کے سینئر صحافی خاوند بخش برڑو سمیت متعدد افراد دل کا دورہ پڑنے سے جان کی بازی ہار گئے سیاسی و سماجی تنظیموں نے اوستہ محمد میں این آئی سی وی ڈی طرز کا ہسپتال قائم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ این آئی سی وی ڈی کے ڈاکٹروں اورمینجمنٹ نے قائم مقام گورنر میر جان محمد خان جمالی سے اوستہ محمد میں ملاقات کے دوران نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزز کی برانچ کھولنے میں دلچسپی ظاہر کی تھی تاہم اس منصوبے پر تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے امراض قلب کے علاج مہنگے ہونے کی وجہ سے غریب اور متوسط طبقے اخراجات سے قاصر ہیں عوامی حلقوں نے صوبائی حکومت اور محکمہ صحت بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع اوستہ محمد میں امراض قلب کا مرکز قائم کرنے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں۔


