چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے ہر شعبے میں خواتین کو موئثر نمائندگی دینا ہوگی، پاکستان ویمن رائٹس
کوئٹہ (انتخاب نیوز) خواتین سیاسی سماجی رہنماﺅں نے کہا ہے کہ خواتین کی شرکت کے بغیر معاشرے میں ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا،خواتین ملکی آبادی کانصف ہیںاور اس وقت ملک کے اہم عہدوں پر بطریق احسن فرائض سرانجام دے رہی ہیں جس کی جتنی بھی حوصلہ افزائی کی جائے کم ہے یہ بات سابق اسپیکر بلوچستان اسمبلی راحیلہ حمید خان درانی،سابق وفاقی وزیر و سابق سنیٹر روشن خورشید بروچہ،پرنسپل گرلز کالج سیٹلائٹ ٹاﺅن پروفیسر منزہ قیوم کاکڑ،ڈپٹی سیکرٹری وومن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ جہاں آرا تبسم،بلوچستان وومن بزنس فورم کی صدر فائزہ مینگل،وومن اپماورمنٹ آرگنائزیشن کی چیف شہزادی فوزیہ کاسی و دیگر نے پاکستان ویمن رائٹس ایسوسی ایشن کے زیراہتما م خواتین کے قومی دن پرمنعقدہ اعلی کاکردگی ایوارڈکی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کی مقررین نے کہا کہ کسی بھی معاشرے میں خواتین کی شمولیت کے بغیر ترقی نہیں کی جاسکتی خواتین نے تمام شعبہ زندگی میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہےدور جدید کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لئے خواتین کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا،خواتین ملکی آبادی کانصف ہیںاور اس وقت ملک کے اہم عہدوں پر بطریق احسن فرائض سرانجام دے رہی ہیں جس کی جتنی بھی حوصلہ افزائی کی جائے کم ہے مقررین نے کہا کہ ہمیں چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لئے ہر شعبے میں خواتین کو موثر نمائندگی دینا ہوگی اوراسکے لئے معاشرے کے ہر فرد کو کردار ادا کرنا ہوگامقررین نے کہا کہ صوبے کی دستکاری اشیا نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر پسند کی جاتی ہیں تاہم قابل افسوس امر یہ ہے کہ اس شعبے کی ترقی کیلئے حکومتی سطح پر اقدامات نہیں کئے گئے اگر صوبے کی دستکاری اشیا کو بین الاقوامی مارکیٹ پر متعارف کروایا جائے تو اس سے کثیر زرمبادلہ کے ساتھ سینکڑوں گھرانوں کی معاشی حالت بھی بہتر ہوسکتی ہےمقررین نے کہا کہ اعلی کاکردگی ایوارڈ کی تقریب منعقد کرنے کا مقصد خواتین کی خدمات کو سراہانا ہے جو اپنے اپنے شعبہ میں نمایاں خدمات سرانجام دے رہی ہیں تقریب میںبلوچستان وومن رائٹس ایسوسی یشن کی بشری میروانی،نائلہ خلجی،طلعت رحمان ،سعیدہ بانوخلجی ،حمیدہ بانو،فردوس،ہما بلوچ، سعدیہ فاروقی،مہوش جنجوعہ،طلعت رحمن،لبنی بادینی ،ذولیخہ کریم،رخسانہ عزیز،انجینئر بینش فرخ، فائزہ میر،نورین کرد،مقصودہ ناز،سارہ خان کاسی افزا کاشف ،کلثوم کاکڑ پانیزئی،افشاں حق،زارا خان،وذمابازئی، رقیہ تاج،اقرا گوہر،ناہیدہ کاسی،ندا جٹ،سنینا مائیکل،نورین ناز،مریم،حمنا صفدر،صفیہ کاکڑ،نازیہ سرپرہ،نگہت انجم،زینش،صابرہ سلطانہ،کنول اسلم،شمائلہ شاہ،نیہا اسحاق،عائشہ انور،ساجدہ ربانی،اقصی بادینی،نبیلہ حیدر،رابیل آفرین،ماریہ نعیم،گل نور،فائزہ صدیقی،نورین ہاشمی،برشنا کاکڑ،آمنہ شفیع،بسمہ خان،رابعہ پرویز،رابعہ ارم ،شاہین شیر علی ،مائرہ صاحبزادہ،مقدس ریاض،روبینہ شاہ،شمسا کنول،عروج،نازیہ ثنا ،سونیا مصطفی،فائزہ سکندر،ردا فاطمہ،عاصمہ شاہ،مناحل،ترظاامجد،سحرش جوزف، شائستہ،رقیہ اکبر ،فریدہ ناز،نورین سرفراز، شازیہ اشفاق،ساجدہ رﺅف ، ملائکہ زاہد ، ماریہ غفور ,عائشہ فیاض علی، فرح شانِ علی، سعیدہ بلوچ،منزہ، فرحانہ، ثریا شاہین،بی بی صفیہ،کلثوم بی بی، نور فاطمہ،سارہ امجد،ممتاز، حبیبہ انور، ثمینہ عبدالمجید، ثنا خان ودیگر کو اپنے اپنے شعبہ میں نمایاں کاکردگی کا مظاہرہ کرنے پر ایوارڈ سے نوازا گیا۔


