بلوچ نوجوانوں اور بزرگوں کے بعد خواتین اور معصوم بچوں کو بھی لاپتہ کیا جارہا ہے، نیشنل پارٹی

کوئٹہ (آن لائن) نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں 12 فروری کو حب چوکی سے رشیدہ زہری کو ساس شوہر اور معصوم بچے سمیت لاپتہ کیا گیا، بعد ازاں ان کی ساس اور معصوم بچے کو چھوڑ دیا گیا جبکہ رشیدہ زہری اور ان کے شوہر محمد رحیم زہری تاحال لاپتہ ہیں جس کے باعث بلوچستان کے عوام میں غم و غصہ کی شدید لہر پیدا ہوگئی ہے۔ پارٹی بیان میںرشیدہ زہری اور ان کے شوہر کو لاپتہ کرنے کے مسئلہ پر لاپتہ افراد کیلئے تشکیل دیئے گئے کمیشن کی خاموشی کو افسوسناک اور معنی خیز قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ پہلے نوجوان اور بزرگ لاپتہ ہورہے تھے ان کی بازیابی کیلئے کمیشن کی تشکیل کے بعد خواتین اور معصوم بچے بھی لاپتہ ہورہے ہیں جبکہ کمیشن سربراہ اور اراکین نے چپ سادھ لی ہے – پارٹی بیان میں خواتین کو لاپتہ کرنا بلوچ سماج اور بلوچستان کے مجموعی عوام کی بدترین توہین ہے اور اس اہم مسئلہ پر تمام سیاسی جماعتوں انسانی حقوق کی تنظیموں بلوچستان کے وہ تمام قبائلی سربراہان جو سوشل میڈیا پر خود کو بلوچ قوم کی ننگ و ناموس کا پاسبان گردانتے ہیں ان سب کی خاموشی ان کی حرص لالچ اور مصلحت پسندی کی انتہا ہے۔ پارٹی بیان میں تمام سیاسی و سماجی تنظیموں سمیت انسانی حقوق کے تنظیموں سے گزارش کی گئی ہے کہ رشیدہ زہری اور ان کے شوہر کی بازیابی کے لیئے ہر فورم پر آواز اٹھائیں۔ پارٹی بیان میں اس امر کو افسوسناک قرار دیا ہے کہ لاپتہ افراد کے نام پر مینڈیٹ حاصل کرنے والے عناصر اب تو خواتین اور بچوں کو لاپتہ کرنے پر بھی معنی خیز خاموشی کا شکار ہیں۔ پارٹی بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ رشیدہ زہری ان کے شوہر عبدالرحیم زہری سمیت تمام لاپتہ افراد کو فوری طورپر بازیاب کیا جاہے۔ پارٹی بیان میں واضح کیا گیا ہی کہ رشیدہ زہری اور ان کے شوہر عبدالرحیم زہری سمیت لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیئے اٹھائی جانے والی ہر آواز اور احتجاج کی نیشنل پارٹی حمایت کرتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں