نوشکی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ ، یوریا کھاد کی اسمگلنگ اور چوری کیخلاف زمیندار ایکشن کمیٹی کا احتجاج
نوشکی نامہ نگار نوشکی میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ. یوریا کھاد کی اسمگلنگ اور زرعی ٹیوب ویلز کی بجلی ٹرانسفارمر اور کیبل کی چوری کے خلاف زمیندار ایکشن کمیٹی کیجانب سے بی اینڈ آر ریسٹ ہاؤس سے ڈی سی آفس تک احتجاجی ریلی نکالی گئی مظاہرین نے کیسکو حکام. وفاقی وزیر مملکت برائے توانائی اور ضلعی انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کیا اسموقع پر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے زمیندار ایکشن کمیٹی کے صدر میر محمد اعظم ماندائی میر خورشید جمالدینی مولوی عبدالصمد مینگل چیرمین میر محمد جان بادینی و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کیسکو چیف نے نوشکی کے زمینداروں کے ساتھ تحریری معاہدہ کیا ہے کہ نوشکی کے دیہی علاقوں کو آٹھ گھنٹے بجلی فراہم کی جائے گی آٹھ گھنٹے کی شیڈول کو مدنظر رکھتے ہوئے زمینداروں نے فصلات کی کاشت کی ہیں اور اب اچانک آٹھ گھنٹے کی بجائے زمینداروں کو صرف دو گھنٹے بجلی دے کر کیسکو حکام زمینداروں کی معاشی قتل کررہے ہیں اگر یہ سلسلہ جاری رہی تو نوشکی کے زمینداروں کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوگا اور زمیندار نان شبینہ کے محتاج ہوں گے انہوں نے کہا کہ نوشکی سے قومی شاہراہ کے زریعے روزانہ کی بنیاد پر درجنوں ٹرک یوریا کھاد افغانستان کے لیے اسمگلنگ کیجاتی ہیں جسکی وجہ سے زمیندار مہنگے داموں کھاد کی خریداری پر مجبور ہیں بظاہر کوئی ایسا ادارہ نظر نہیں آتا جو یوریا کھاد اور اشیاء خوردنی کی اسمگلنگ کو روکنے کیلئے اقدامات کریں انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی روز سے نوشکی میں زرعی اور گھریلوں صارفین کی بجلی ٹرانسفارمرز اور ٹیوب ویلز کی کیبل چوری کرنے کی واردتیں اپنی عروج پر ہے پولیس اور ضلعی انتظامیہ ان چوروں کو گرفتار کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے زمیندار ایکشن کمیٹی کے وفد نے ڈپٹی کمشنر نوشکی خرم خالد اور اے ڈی سی نظام رحیم بلوچ سے ملاقات کی اور انھیں درپیش مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے کہاکہ نوشکی کے زمیندار کیسکو حکام کے زمیندار دشمن پالیسیوں سے تنگ آچکے ہیں اسی آج بروز منگل نوشکی کے علاقہ مل میں مکمل پہیہ جام ہڑتال ہوگی ٹرانسپورٹروں اور مسافروں سے گزارش ہے کہ وہ پہیہ جام ہڑتال کو کامیاب بنانے کے لیے اپنی گاڑیوں کو روڈ پر نہ لائیں.


