اسرار اللہ زہری نے پارٹی کو دولخت کیا، مرکزی کابینہ کا اجلاس 15 فروری کو ہوگا، بی این پی عوامی
بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے مرکزی لیبر سیکرٹری نور احمد بلوچ ، مرکزی سیکرٹری انسانی حقوق چیئرمین سعید فیض بلوچ ، مرکزی انفارمیشن سیکرٹری ڈاکٹر ناشناس لہڑی ، مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل ایڈوکیٹ حسن بلوچ ، مرکزی سیکرٹری مالیات شاہد بلوچ ، مرکزی سیکرٹری فشریز ملا واحد نوری ، مرکزی سپورٹس سیکرٹری رحمدل بلوچ ، مرکزی کمیٹی کے ممبر عبدالوکیل مینگل ، مرکزی کمیٹی کے ممبر آصف مجید ،مرکزی کمیٹی کے ممبرسنگت الہی بخش بلوچ ،مرکزی کمیٹی کے ممبرنثار احمد بلوچ ، مرکزی کمیٹی کے ممبر علی جان جوسکی ، سینٹرل کمیٹی کے ممبر مقبول احمد ، سینٹرل کمیٹی کے ممبر شکیل احمد بلوچ ، سینٹرل کمیٹی کے ممبر ڈاکٹر یاسر شاہوانی ، سینٹرل کمیٹی کے ممبر میر محمد چانڈیوں ،سینٹرل کمیٹی کے ممبر ظریف زدگ ، سینٹرل کمیٹی کے ممبر حاجی علی اکبر جتک ،سینٹرل کمیٹی کے ممبر ڈاکٹر عبید اللہ مری ، سینٹرل کمیٹی کے ممبر میر مجیب بلوچ ،سینٹرل کمیٹی کے حاجی محمد اکبر، سینٹرل کمیٹی کے ممبر محمد ایوب بلوچ نے مشترکہ طور پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ 13 فروری کو میر اسرار زہری نے ایک میٹنگ سینٹرل کمیٹی کے نام سے منعقد کی تھی جو قطعی غیر آئینی، غیر سیاسی، غیر اخلاقی میٹنگ تھی، بی این پی (عوامی) کے سینٹرل کمیٹی کے اجلاس کا 15 فروری کو متفقہ طور پر اعلان کیا گیا تھا، اخلاقی طور پر یہ ہونا چاہیے تھا کہ میر اسرار اللہ زہری اس اجلاس کو اٹینڈ کرتے اور پارٹی کی اکثریت رائے اور مینڈیٹ کا احترام کرتے ہم 23 افراد بی این پی (عوامی) کے مرکزی کابینہ اور مرکزی کمیٹی کے دوست اس غیر آئینی عمل کو مسترد کرتے ہیں، ہم بہت دکھ کے ساتھ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہم نے 20 سال اکٹھے سیاست میں یکجا رہ کر اپنا خون پسینہ بہا کر ہر مشکل سے مشکل گھڑی کا سامنا کیا، بغیر کسی اعلان کسی اطلاع کے غیر اعلانیہ طور پر کچھ غیر متعلقہ لوگوں کو جنکا بی این پی (عوامی) سے دور کا کوئی تعلق نہیں ا±ن کو پارٹی کی ٹوپی پہنا کر غیر آئینی سینٹرل کمیٹی کے اجلاس میں بٹھانا پارٹی کے فلسفے کی نفی اور غیر اخلاقی عمل ہے، سیاست بیشک رضا کارانہ عمل ہے لیکن اخلاص، کمٹمنٹ، وفا عہد بھی کسی چیز کا نام ہے، پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل نے حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اخلاقی جرات کرکے میر اسرار اللہ زہری کے گھر گئے ان کو عزت دی، وہاں 2 گھنٹے بات چیت کے بعد خود میر اسرار اللہ زہری نے 15 فروری کو سینٹرل کمیٹی کا اجلاس طلب کرنے پر اتفاق کیا، حیرانگی کی بات یہ ہے کہ دو دن پہلے کونسی جلدی تھی کہ پارٹی کو دو لخت کیا گیا، ہم سمجھتے ہیں کہ ہم ایک جمہوری جدوجہد کے سپاہی ہیں، اس کی آبیاری کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے، ہمارا کسی سے ذاتی اختلاف نہیں، اصولوں پر اختلاف رائے ہو سکتا ہے۔ بات صدارت یا بادشاہت کی نہیں، بات مظلوم عوام کی حقوق کی جدوجہد کی ہے، جس سینٹرل کمیٹی کے ساتھیوں نے ا±س کے ساتھ حلف اٹھایا تھا وہ بخوبی جانتے ہیں کہ وہ کون ہے آئین کے پہلے صفحے پر مرکزی کابینہ جبکہ آخری صفحے پر مرکزی کمیٹی کے ممبران کے نام نوشتہ ہیں، پارٹی کے مرکزی کابینہ کے 15 عہدیداران ہیں جبکہ مرکزی کمیٹی کے 30 ممبران ہیں ان میں سے کچھ ساتھی سوراب، خضدار اور کچھ تربت سے تھے جو پارٹی چھوڑ کر دوسری جماعتوں میں شامل ہوگئے تھے، مجموعی طور پر باقی 30 ممبران مرکزی کابینہ اور کمیٹی کے رہ گئے تھے ان میں سے 6 بندے میر اسرار اللہ زہری کے پاس گئے تھے، باقی 23 ممبران بی این پی (عوامی) کے ساتھ ہیں لیکن اس کے باوجود کچھ غیر متعلقہ اور اپنے گن مینوں کے ساتھ بیٹھ کر اسکو سینٹرل کمیٹی کا نام دینا بلوچستان کے سیاسی حلقوں میں یہ پیغام پارٹی کیلئے نیک شگون نہیں اگر مرکزی سیکرٹری جنرل نے یہ اظہار کیا تھا کہ آنے والے مرکزی قومی کونسل سیشن میں صدارت کیلئے الیکشن کا خواہش رکھتا ہے یہ نہ تو کوئی گناہ ہے اور نہ ہی کوئی غلط عمل بلکہ ایک جمہوری عمل ہے، اس پر اس حد تک جانا اور پارٹی کو دو لخت کرنا تاریخ کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ 13 فروری کے غیر آئینی میٹنگ کے بعد میر اسرار اللہ زہری کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بلوچ قوم، یکجہتی، اتحاد کی جو باتیں کی گئیں دوسری جانب عملاً غیر آئینی میٹنگ میں پارٹی کو دو لخت کیا گیا یہ دو رائے انداز بیان سمجھ سے بالا تر ہے، خواہشات ہر ایک کی ہوتی ہے کہ ہم بڑے عہدوں پر رہیں مگر بڑے عہدوں پر رہنے کیلئے کاروان کو ساتھ لیکر چلنا ہوتا ہے، کاروان کے ہر سپاہی کو شک کی نگاہ سے دیکھنا قوم کی جگہ ذاتی مفادات کو تقویت دینا یہ ساری نہ اتفاقی کے زمرے میں آتے ہیں، تاریخ اپنے آپ کو خود دہراتی ہے، بی این پی (عوامی) ایک فکری اور نظریاتی پارٹی ہے، اس کی آبیاری پارٹی کے ورکروں نے اپنے خون پسینہ سے کی ہے اس کو سازشی انداز میں نہیں توڑا جاسکتا۔ 15 فروری کو مرکزی کمیٹی کا اجلاس ہوگا جس میں پارٹی کے مرکزی قومی کونسل سیشن کا اعلان کیا جائیگا۔ ہمارا کسی سے کوئی ذاتی اختلاف نہیں جس نے رائے جدا کی اسکو مبارک ہو ہم اپنا کارواں لیکر آگے چلیں گے اسکا فیصلہ وقت اور تاریخ کرے گا۔


