گوادر میں تین ڈیم بننے کے باوجود پسنی کے مختلف دیہی علاقے پانی سے محروم

گوادر (این این آئی) گوادر میں تعمیر شدہ تین ڈیم کلانچ کے مختلف دیہات کی پیاس نہ بجھا سکے، شادی کور، سوڈ اور بیلار ڈیم سے متصل پسنی شہر کے مختلف دیہی علاقوں میں عوام اور جانور ایک ہی تالابوں کا پانی استعمال کرنے پر مجبور ،گوادر کی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لئے شادی کور ڈیم سے اربوں روپے کی لاگت سے 150 کلومیٹر لمبی پائپ لائن بچھائی گئی جبکہ 3 کلو میٹر پر واقع پسنی شہر و کلانچ کے مختلف دیہاتوں کو تاحال بذریعہ پائپ لائن شادی کور ڈیم سے منسلک نہیں کیا جا سکا۔ تفصیلات کے مطابق ضلع گوادر کے شادی کور ڈیم سوڈ یم اور بیلار ڈیم کے بیچوں بیچ بسنے والے پسنی کے دیہی علاقہ کلانچ کے مختلف دیہاتوں سے گزرنے والی ہائپ لائنوں سے شادی کور ڈیم سے گوادر شہر کو پانی سپلائی کرنی والی پائپ لائن گزرنے کے باوجود کلانچ کے لوگ سروں پر برتنیں اٹھائے دور دور پانی کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔کلانچ کے مختلف دیہاتوں کے لوگ بندات و نہروں میں جمع ہونے والی بارانی پانی پر منحصر ہیں جبکہ شادی کور ڈیم سے 30 کلع میٹر واقع پسنی شہر کو زرعی چینلوں کے ذریعے پانی سپلائی ہوتی ہے جن میں لوگ نہانے کے ساتھ ساتھ گندگی بھی پھینکتے ہیں۔ کلانچ کے دیہی علاقوں میں بارشیں نہ ہونے کی صورت میں لوگ ٹینکروں سے مہنگے داموں پانی خریدتے ہیں۔گوادر سی پیک کا مرکزی علاقہ ہونے کے باوجود کلانچ کے باسی پانی کی تلاش میں میلوں دور در بہ در سرگرداں ہیں،یہ علاقے پانی کے علاوہ تمام تر زندگی کے دیگر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔واضع رہے کہ شادی کور ڈیم سے 150 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع گوادر کی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لیے اربوں روپے کی لاگت سے پائپ لائن بچھائی گئی ہے جبکہ 30 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع پسنی شہر اور کلانچ کے مختلف دیہاتوں کو تاحال بذریعہ پائپ لائن ان ڈیموں سے منسلک نہیں کیا جا سکا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں