بلوچستان کا مسئلہ بندوق سے حل نہیں ہوگا، صوبے کا احساس محرومی دور کیا جائے، اسد بلوچ

کراچی (انتخاب نیوز) بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے سینٹرل کمیٹی کا اجلاس15فروری 2023کو کراچی میں میر اسد اللہ بلوچ کے زیر صدارت منعقد ہوئی اس سینٹرل کمیٹی کے اجلاس کے روح سے پارٹی کے ترجمان نے بیان جاری کرتے ہوئے کہاکہ اس وقت ملک میں جو غیر یقینی کیفیت اورملکی معیشت دن بدن انتہائی کمزور ہوتا جارہا ہے ذرائع پیداوار قوت پیداوار جمودکا شکار رہے اس تناظر میں حکمرانوں کے پاس اب بھی کوئی جامع منصوبہ نہیں ہے لڑائی کچھ خاندان اور سیاسی مفادات کے حوالے سے بڑے تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں لیکن ملکی معیشت اس حد تک پہنچ چکی ہیں کہ ہم باقی دینا سے قرض لینے میں بھی نا کام رہے رہیں دنیا کے تمام مالیاتی ادارے قرض دینے سے انکاری ہے اور ایسے سخت شرائط پہ وہ بات کررہے ہیں اگر انکی یہ شرائط مانی جائے تو مہنگائی کی جو شراح ہے وہ اس وقت آسمان کی بلندیوں کو چو لیگی ایسے حالات میں گزر بسر کرنا پسے ہوئے طبقے مڈل کلاس چھوٹے تنخواہ داروں کے بس کی بات نہیں ہے ماضی کے حکمرانوں کی غلط پالیساں اور غلط خارجہ پالیسی کی وجہ سے ان ستر سالوں میں ہم اپنی پیروں پر کھڑے نہیں ہوسکے پوری عالمگیر دنیا امریکہ،سعودی،گلف سب سے ہم نے قرضے لیے ہیں اور آئی ایم ایف سے سخت شرائط پہ ہم نے قرضے لیئے تھے اس وقت انکو واپس دینے کی پوزیشن میں ہم نہیں ہیں انکی بنیادی وجہ ہمارے پاس جامع منصوبہ نہ ہونے کی وجہ سے قومی یکجہتی پالیسی بھی نہیں ہے اکائیوں کو ساتھ چلنے کا شرف بھی ہمارے پاس نہیں ہے استحصال اور استحصالی نظام کو دوام بخشنے کی خاطر ہم نے اپنا دن رات ایک کر کے تلخیاں پیدا کی لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم رہا مظلوم قوموں کے حقوق غضب کیئے گئے وسائل کی تقسیم غیر منصفانہ رہا جمہوری تقاضوں کو تقویت دینے کے بجائے ڈائیلاگ اور گفت و شنید کے زریعے مسلوں کو حل کرنے کی بجائے ہم نے طاقت کا استعمال کیا ہے غلط خارجہ پالیسی کی وجہ سے پورے دنیا میں اہم آسولیشن پر گئے باقی دنیا سے رشتہ جوڑنے کیلئے جو ایک ٹرسٹ ہوتی ہے اور اس ٹرسٹ کو ہم منٹین نہ رکھ سکے اس لیے آج ہم اس پوزیشن میں ہے کہ آئے دن مہنگائی کے دلدل میں دھنستے جارہے ہیں حالانکہ پی ڈی ایم کی جو تحریک تھی اسکا سلوگن یہی کہ ہم آکر 22کروڑ عوام کو ریلیف دینگے مہنگائی کو کم کرینگے روزگار کے موقع فراہم کرینگے یہ ساری باتیں صرف تقریروں اور ٹی وی ٹاک شوق تک ہی رہی عملی طور پر سددرسد فیصد مہنگائی اور بڑھ گئی لہذا بی این پی (عوامی) سمجھتی ہے کہ ملکی معیشت کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کیلئے نئے عمرانی معاہدے کے تحت نیک نیتی کے ساتھ اکائیوں کو ساتھ ملا کے ایک پیج پر ہوتب معیشت کو بچانے کا کوئی کرن پیدا ہو سکتا ہے اس بات میں کوئی شک و شبہ بھی نہیں اور ہم جسارت کے ساتھ یہ کہتے ہیں کہ ان ستر سالہ ادوار میں بلوچستان کو مال غنیمت سمجھ کر لوٹتے رہے سیندک جیسے بڑے منصوبوں میں ایک مظلوم قوم کی حالت زندگی پر کوئی تبدیلی نہیں لا سکے ریکوڈک جو ایک قومی خزانہ ہے جو بلوچ قوم کا ہزاروں سال کا وولت ہے جس سے بھی بلوچ قوم مستفید نہیں ہورہی سی پیک کی بلند و بانگ دعوے کرنے والوں نے 56بلین ڈالر کا قرضہ بھی لیا گوادر کے نام پر بجاے اس کے کہ گوادر کے عوام کی زندگی میں خوشحالی آئیں گوادر کے لوگ اب بھی پانی کے ایک ایک بوند کیلئے سڑکوں پر نکلتے ہیں ہزاروں سالوں سے ماہی گیر گوادرمیں رہائش پزیر ہیں اور اسی سمندر سے اپنا گزر بسر کرتے تھے لیکن آج بین الاقوامی ٹرالر مافیاں کی وجہ سے نان شبینہ کے محتاج ہیں بلوچستان میں ڈیم نہ ہونے کی وجہ سے بارشوں کا پانی سمندر میں ضیائع ہورہا ہے جس کی وجہ سے اس قدرتی دولت سے ہم کچھ فائدہ حاصل نہیں کرپارہے چونکہ بلوچستان ایک زرعی زون ہے اسکی اب و ہوا زراعت کیلئے ایک بہتر آب و ہوا ہے اور مختلف ڈویژنوں میں مختلف موسم بھی پائے جاتے ہیں اس وسیع العرض سر زمین کے سینے میں زراعت کے مواقع کافی موجود ہیں لیکن مرکزی گورنمنٹ کی جانب سے عدم توجہ کی وجہ سے آج ہمارے کسان مزدور انتہائی پریشانی سے دو چار ہیں اس سینٹرل کمیٹی کے روح سے پارٹی یہ سمجھتی ہے کہ حکمران اسلام آباد کے پالیسی میکر اداروں میں بیٹھے ہوئے لوگ ماضی کی غلط پالیسی کو ترک کر کے ایک مثبت شعوری سوچ کے ساتھ بلوچستان کے عوام کو زراعت سے منسلک وہ لوگ جو ٹیوب ویل کے ذریعے زراعت کے شعبے سے وابستہ ہے انکو مفت بجلی کی فراہم کرنا بارڈر سے منسلک علاقوں میں اشیا خوردنی کو بغیر کسی ٹیکس کے فری ماحول میں آزادانہ پالیسی کے ساتھ انکے ساتھ اچھا رویہ اپناکر بلوچستان کے نوجوان ڈاکٹرز،انجینئرز،گریجویٹرز جو بے روزگار ہے ان کیلئے روزگار کے موقع پیدا کرنا اور چونکہ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے اس کیلئے گفت و شنید ڈائیلاگ کے ذریعے حل کرنا طاقت کے استعمال کو کم کرنا بندوق کے نوک سے فیصلے کرنے کے بجائے قلم اور شعور کے ذریعے حق اور سچائی کے راستے کو اپناتے ہوئے ملکی آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے جتنے بھی بہ گناہ لوگ اس وقت بند ہیں انکو رہا کیا جائے بی این پی (عوامی) پر امن جمہوری اصولوں کی پابندی کرتے ہوئے حق اور انصاف کیلئے پسے ہوئے طبقے کے حقوق کی خاطر جہد تسلسل کے ساتھ پارلیمنٹ او ر پارلیمنٹ سے باہر حقوق کی جنگ کو جاری رکھیں گی بی این پی (عوامی) ایک جمہوری سیاسی ترقی پسند پارٹی کے ناطے ان تمام جمہوریت پسند، قوم دوست، ادیب، دانشوروں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ آکر پارٹی کے پلیٹ فارم سے حق اور سچائی کے جدوجہد میں شامل ہوکر آنے والے دنوں میں ہماری قومی کونسل سیشن جو بہت جلد شال کوئٹہ میں منعقد ہوگا یہ ایک نئے فکری اور شعوری جدوجہد کو اپناتے ہوئے تاریکی کیخلاف نئے روشنی اور نئے فلسفے کے ساتھ ابھرکے سامنے آئیگی۔اس کے ساتھ ملک میں اس وقت 18ویں ترامیم کے بعد جو مختلف محکموں کا اختیار جو صوبوں کو دیئے جانا تھا ا±ن پر بھی عمل در آمد اب بھی نہ ہوسکی مضبوط فیڈریشن کی جو مائینڈ سیٹ ہے یہ اس وقت کار بند ہوگا کہ اکائیاں مضبوط ہوجب تک اکائی مضبوط نہیں ہوگی انکے بنیادی حقوق،احساس محرومی دور نہیں ہوگی تو مضبوط فیڈریشن کا تصور ایک خواب ہوگا یہ ملک 22کروڑ عوام کا ہے طاقت کا سر چشمہ عوام ہے بلٹ کے بجائے بیلٹ کے ذریعے مسئلوں کا حل تلاش کیا جائے آج کی دنیاکا تقاضہ ہے اور اس وقت مکمل صوبائی خودمختاری اکائیوں کو ملنا چائیے تین سبجیکٹ مرکز کے پاس ہو باقی صوبوں کو دیئے جائے اس سینٹرل کمیٹی کا اجلاس میں کچھ قرارداد بھی پاس ہوئے جو بعد میں جاری کیئے جائینگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں