پاکستان میں مادری زبانوں کو اہمیت نہیں دی جارہی، ترویج کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے، اے این پی

کوئٹہ :عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری مابت کاکا نے کہا ہے کہ پوری دنیا میں اس امرپراتفاق پایاجاتاہے کہ تخلیق مادری زبان ہی کی مرہون منت ہے بد بختانہ ہمارے ہاں مادری زبانوں کی اہمیت سے مسلسل انکار کیاجارہا ہےمادری زبانوں کو تعلیمی اوردفتری زبانیں قراردیکراس کے ترویج وترقی کیلئے اقدامات اٹھانے ہونگے فکر باچاخان اورعوامی نیشنل پارٹی شہبازاخباراورپشتون مجلہ کے زریعے پشتو زبان کی ترویج وترقی میں پیش پیش ہےاے این پی کےزیر اہتمام21فروری کو تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز/باچاخان مراکزمیں اس دن کی اہمیت وافادیت بارے تقاریب منعقدہوں گے کارکن اورذمہ داران بھرپورشرکت کویقینی بنائیں عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری مابت کاکا نے باچاخان مرکزسے جاریکردہ اپنے اخباری بیان میں کہا ہے کہ زبان و ادب کی اہمیت سے آگاہ اقوام آج دنیا پر راج کررہے ہیں ، پشتو کی ترقی اور ترویج کے لئے عوامی نیشنل پارٹی کے اکابرین ، رہنماں اور کارکنوں نے اپنا کردارہمیشہ فعال انداز سے نبھایا ہے اور اس حوالے سے بلندو بانگ دعوں کی بجائے عملی اقدامات اٹھا کر قوم اور زبان دوستی کا ثبوت دیا ہے ، پشتو زبان ، ادب اور صحافت کے فروغ میں اے این پی کے اکابرین کا کردار ناقابل فراموش ہے پشتوزبان و ادب کی تاریخ ہزاروں برسوں پرمحیط ہے تاریخی طور پر پشتونوں نے ہمیشہ اپنی زبان ، ادب ، تاریخ اور ثقافت کو اہمیت دی ہے اورا نفرادی سطح پر زبان کی ترقی کے لئے اپنا کردار ادا کیا ہے مگر بد بختانہ حکومتوں کی سطح پر پشتو زبان سمیت دیگر مقامی زبانوں کی ترقی کے لئے تاریخ میں بہت کم اقدامات اٹھائے گئے ہیں پشتو زبان کی ترقی اور ترویج کے لئے فخرافغان باچاخان ، ان کے رفقاکاراورعوامی نیشنل پارٹی کے اکابرین نے قابل قدر کردار اداکیا شہباز اخبار اور پشتون مجلہ اس کی روشن مثال ہے پارٹی کو جب بھی موقع ملا بلند وبانگ دعوں کی بجائے عملی اقدامات اٹھائے چاہے وہ خیبرپشتونخوا میں پشتو سمیت دیگر مقامی زبانوں کونصاب کی زبان بنانے کا فیصلہ ہویا پھر پشتو ادب و ثقافت کی ترقی کے لئے ادبی اور ثقافتی تنظیموں کی سرپرستی کی صورت میں مگر پارٹی نے ہمیشہ اپنے فرائض احسن طریقے سے ادا کئے ہیں بیان میں کہا گیا کہ آج دنیا اکیسویں صدی میں جی رہی ہے اور یہ صدی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی صدی کہلاتی ہے جس میں گلوبلائزیشن اور دیگر وجوہات کی بناپر قوموں کی زبان و ادب اور ثقافت کو بہت زیادہ خطرات لاحق ہوگئے ہیں ایسے میں ہم سب کی یہ مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی زبان وادب کی ترقی اور اس کی بقاکے لئے اپنا فعال کردار ادا کریں انہوں نے کہا کہ21فروری کو مادری زبانوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے آج کے دن کا تقاضہ ہے کہ ہم اپنی مادری زبانوں کو درپیش خطرات کا جائزہ لیں اور ان سے نمٹنے کے لئے ایسا لائحہ عمل اختیار کریں جس کی مدد سے اپنی زبان کو فنا ہونے سے بچائیں پشتو سمیت تمام مادری زبانوں کو قومی زبانوں کا درجہ دے کر اسے تعلیمی اور دفتری زبان ڈکلیئرکیاجائے اور ان کےفروغ اوربقاکےلئے اقدامات اٹھائے جائیں عوامی نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام تمام ضلعی ہیڈ کوارٹرز/باچاخان مراکز میں 21 فروری کومادری زبانوں کےعالمی دن کے مناسبت سے تقاریب منعقد ہوں گے کارکن اور ذمہ داران بھر پور شرکت کو یقینی بنائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں