سیندک پروجیکٹ کے شیئر سے صرف ڈھائی ارب کی ادائیگی بلوچستان سے مذاق ہے، نیشنل پارٹی

دالبندین (آن لائن) نیشنل پارٹی دالبندین کے پریس ریلیز میں کہاگیاہے کہ سیندک میٹلزلمیٹڈ کی جانب سے بلوچستان پیکج کی مد میں بلوچستان حکومت کو دوارب سے زائد شئیرکے نام پر دینا بلوچستان وبلوچ وسائل کولوٹنے کے ساتھ بلوچ قوم کا مذاق بھی اڑایا جارہا ہے، بیان میں کہا گیا ہے کہ سیندک پروجیکٹ میں کمپنی بیس سال سے کھربوں ڈالر کماتی رہی ہے، بلوچستان حکومت کو ایک سال میں صرف ڈھائی ارب شیئر دینے سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ سیندک مینجمنٹ بلوچستان کی کٹھ پتلی حکومت سے مل کر وفاق کی آشیرباد سے بھیک لینے پر راضی اس لئے ہوئی ہے تاکہ بعد میں بلوچستان کے نام پر ملنے والی اس رقم کو بندر بانٹ کرکے ہڑپ کرلیں۔ سیندک کا علاقہ آج بھی اٹھارویں صدی کا نقشہ پیش کررہا ہے، سیندک کے علاقوں میں کمپنی کے فنڈز سے ایک پکی سڑک تک نظر نہیں آئیگی، دو سرکاری اسکولوں کی حالت خود ہی سیندک کے عوام کے ساتھ روا رکھی گئی ناروا سلوک کا منہ بولتا ثبوت ہے، صحت کے حوالے سے تو پروجیکٹ انتظامیہ کے علاوہ نہ کسی ملازم اور نہ ہی مقامی آبادی کوکوئی ریلیف ملا ہے، سیندک کے مقامی نوجوان بیروزگاری کا شکار ہیں، بیان میں کہا گیا کہ اڑھائی ارب روپے کی بندر بانٹ سے بلوچستان کے لوگوں کو بیوقوف نہیں بنایا جاسکتا، مال مفت دل بے رحم کے مصداق وفاق نے بلوچ وسائل کو کوڑیوں کے دام غیر ملکی کمپنیوں کو فروخت کردیا ہے، چائنیز کمپنیوں نے سیندک پروجیکٹ کے سونے چاندی اور دیگر وسائل سے اپنے ملک کے ترقی میں کردار ادا کیا مگر سیندک کے مقامی لوگ بھوک، افلاس، بیروزگاری، تعلیم، صحت ودیگر سہولیات کے لئے ترس رہے ہیں۔ نیشنل پارٹی بلوچستان حکومت اور سیندک پروجیکٹ انتظامیہ کی آپسی بندر بانٹ کے ڈھونگ کو مکمل مسترد کرکے مطالبہ کرتی ہے کہ بلوچستان کے عوام کے سامنے سیندک پروجیکٹ کا بیس سال سے مکمل حساب کتاب لایا جائے کہ بیس سال میں کتنے ٹن سونے وتانبے یہاں سے نکالے گئے بلوچستان کوکتنا منافع ملتا رہا ہے علاقہ میں کتنی ترقی ہوئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں