مقتدرہ کو بلوچ، پشتون اقوام کیخلاف اپنی استعماری پالیسی اور مائنڈ سیٹ بدلنا ہوگا، این ڈی ایم
کوئٹہ : نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے نمائندہ وفد نے صوبائی صدر احمد جان خان کی سربراہی میں سانحہ بارکھان کے سفاکانہ عمل کیخلاف کوئٹہ میں جاری دھرنا میں شرکت کرکے شہدا کے لواحقین اور ان کے جمہوری احتجاج کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور کہاکہ نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ اس انسانیت دشمن اور وحشت ناک واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے قاتلوں کی گرفتاری اور سخت سزا دینے کا مطالبہ کرتی ہے۔ دریں اثنا اس خونی واقعہ کیخلاف نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے زیراہتمام لورالائی میں احتجاجی مظاہرہ اور جلسہ منعقد ہوا جس سے پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری اسفندیار خان کاکڑ،ضلعی صدر شریف ایڈوکیٹ ،حیات خان ناصر ،کبیر خان،سردار نظرخان اور طاہر خان نے خطاب کیا۔مقررین نے بارکھان میں ماں اور بچوں کو قتل کرکے لاشیں کنویں میں پھینکنے کے سفاکانہ عمل کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس سانحہ کی جوڈیشل انکوائری کرکے اصل حقائق اور اس کے پس پردہ عزائم کو بے نقاب کرکے قاتلوں کو قرار واقعی سزادینے کا مطالبہ کیا ۔مقررین نے کہا کہ بلوچستان اور پشتونخوا کے عوام اور پشتون ،بلوچ اقوام پر ریاست اور اس کے اداروں کی سرپرستی میں تخریب کاری، قتل و غارتگری کی اذیت ناک صورتحال مسلط ہے اور سانحہ بارکھان بھی اس کا تسلسل ھے۔انہوں نے کہا کہ ریاست اور اس کے امرانہ قوتوں نے پشتون بلوچ کے وسائل پر قبضہ کرکے اپنے کارندوں کے ذریعے عوام کو یرغماال بنایا ھے۔اور صوبے میں اس طرح کے سفاکانہ واقعات کے ذریعے ملک کے عوام اور دنیا کے سامنے ہمیں وحشی کے طورپر پیش کررہے ہیں تاکہ یہاں پر فورسز کے ذریعے مسلط قبضے کو دوام دیکر جمہوری سیاسی عمل کا راستہ روکا جاسک’ لیکن اس حقیقت سے اب ہر باشعور شہری اور ہمارے عوام بخوبی آگاہ ہے کہ بلوچستان اور پشتونخوا میں تمام وحشت ریاست اور اس کے اداروں نے پھیلا رکھی ہیں اور صوبے میں عوام کے بجائے خفیہ ایجنسیوں ،فورسز اور ان کے کارندوں کی حکومت ہے۔ جس سے صوبہ تباہی وبربادی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔ مقررین نے کہا کہ پنجاب کے استعماری و امرانہ قوتوں کو پشتون بلوچ اقوام سے متعلق اپنی استعماری پالیسی اور مائنڈ سیٹ کو بدلنا ہوگا اور تمام سیاسی پارٹیوں کا اولین فریضہ بھی یہ ہے کہ وہ جمہوری سیاسی مزاحمت اور جدوجہد کے ذریعے ان پشتون بلوچ دشمن قوتوں اور ان کے منفی عزائم کا راستہ روک کر سول اتھارٹی کو بحال کرکے جمہوری سیاسی عمل کی راہ میں حائل روکاٹیں ختم کرے۔اور اس سلسلے میں مصلحتوں و سمجھوتوں کا طرزعمل ترک کرکے جدوجہد کی راہ اپنائیں جس کے ذریعے موجودہ اذیت ناک صورتحال سے نجات ممکن ہے۔


