بلوچستان حکومت عبدالرحمن کھیتران کی پشت پناہی کررہی ہے، وکلا کیس کی پیروی نہ کریں، مری قبائل
ہرنائی : ہرنائی سانحہ بارکھان کے خلاف مری قبیلے کی جانب احتجاجی ریلی نکالی گئی احتجاجی ریلی میں مختلف طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والوں نے شرکت کی ۔احتجاج کے شرکا نے مختلف بینر اٹھائے ہوئے تھے جس پر مختلف نعرے درج تھی جو مختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی کجو ماما چوک پر جلسے کی شکل اختیار کی گئی احتجاج کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئےعزیز مری ، واحد بلوچ ، میر شبیر احمد مری ، میر مراد بلوچ ، شیر باز ترین ، حکیم جتوئی ، عمر مری ، بالیل خان مری ،جمعہ خان مری ،طور خیل مری ، ملک عنائت اللہ ترین ، بلال بلوچ ، سلیمان مری ، شامیر مری ، سفر خان مری ، عیدو مری و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بارکھان پیش ہونے والے المناک واقعہ میں خان محمد مری کے اہلخانہ کو عرصہ دراز سے صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران نے نجی جیل میں قید کیا ہوا تھا جبکہ چار ماہ پہلے محمد خان مری کی اہلیہ کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا بھی منظر عام پر آئی جس سے وزیراعلیٰ بلوچستان وزیر داخلہ کو آگاہ بھی گیا تھا مگر اس کے باوجود ان کی رہائی کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے بلکہ اس واقع کو چھپانے کے لیے کوشیش کی گئی جسکے بعد گزشتہ روز خان محمد مری کے دو بیٹوں اور ایک ویڈیو بنانے والی قید خاتون کی لاشیں بارکھان کے ایک کنویں سے ملی جس کے بعد عوام سراپا احتجاج ہوئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بلوچستان میں آج بھی سرداروں اور نوابوں کی بےشمار نجی جیل ہیں جس میں سینکڑوں بےگناہ افراد قید ہیں جن پر تشدد کیا جاتا ہے اور جبری مشقت کیا جاتا ہے اسی طرح سردار عبدالرحمن کھتیران کے عرصہ دراز سے نجی جیل سلیم کمپلیس پٹیل باغ کوئٹہ میں اور بارکھان کے علاقے بغاو میں موجودہ ہیں جن میں وقتا وقتا لوگ قید ہوتے گئے۔ خطاب میں انہوں کہا کہ گزشتہ کئی سال عبدالرحمن کی قید میں ایک بگٹی قیدی تھے جنہیں 18 دسمبر کو قتل کرکے خفیہ دفنایا گیا جس پر آج تک کوئی پوچھنے والا نہیں۔ انہوں نے کہا بلوچستان واقع پر کسی نے وقت پر آواز نہیں اٹھائی لیکن سینیٹر مشتاق احمد سینیٹ میں خطاب کرکے متاثرہ خاندان پر آواز بلند کی۔ مظاہرین نے کہا کہ واقعے کے وزیراعلیٰ بلوچستان، و وزیر داخلہ سردار عبدالرحمن کھیتران کے ظلم و جبر پر ان کا ساتھ دیا۔ وزیراعلیٰ قدوس بزنجو اور وزیر داخلہ یہ عہدے رکھنے کا حق نہیں رکھتے انہیں فوری مستعفی ہونا چاہیے مظاہرین نے آخر تمام وکلا سے اپیل کی وہ سردار عبدالرحمن کھیتران کے کیس کی پیروی نہ کریں اور مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ سردار عبدالرحمٰن کھیتران کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کرکے کیفرکردار تک پہچایا جائے۔


